قائد اعظم اور اردو



قائداعظم اور اردو

یه سبق مولوی عبدالحق نے تحریر کیا ھے وه کهتے ھیں که میں غیر سیاسی آدمی ھوں چنانچه قائداعظم سے میری ملاقات اردو کے حوالے سےھوئیں۔ بابائے اردو نے یه یاداشتیں صیغه واحد متکلم میں قلم بند کیں ھیں یعنی میں سے مراد مولوی عبدالحق کھتے ھیں:۔

سب سے پھلے 1937 میں قائداعظم کا خط میرے نام آیا جس میں اردو کے حوالے سے میری قومی خدمت کا اعتراف کیا گیا تها۔ اور مجهے لکهنؤ میں منعقد ھونے والے مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں دعوت دی گئی تهی۔ تاکھ میں قائداعظم سے مل سکوں۔ اس کے ایک دو روز بعد ھی علامھ اقبالؒ اور میاں بشیر احمد نے مجهت خطوط کے ذریعے تاکید کی کھ میں ضرور مسٹر جانح سے ملوں۔ قائداعظمؒ سے میری ملاقات کی تحریک غالباً ڈاکٹر علامه اقبالؒ نے کی ھوگی۔

انھیں شاید اندیشه تها کھ میں اھلﹺ کانگریس یا ھندی والوں سے کوئ ایسا سمجھوتھ نھ کرلوں جو اردو والوں کے حق میں مفید نه ھو۔ میں عبدالرحمٰن صدیقی کے ھمراھ لکهنؤ گیا جو مسلم لیگ کونسل کے ممبر تهے صدیقی صاحب کے ھمراھ قائداعظم سے میری ملاقات ھوئ اور انھوں نے اردو کے معاملے میں مجهے تعاون کرنے کو کھا چنانچه میں نے انھیں اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ ھم اردو کے بارے میں ایک قرار دار بهی لکھ کر ساتھ لے گئے تهے۔وه هم نے قائداعظم کو پیش کی انهوں نےشروع سے آخر تک پڑھا اور پسند فرمایا۔ دوسرے دن مسلم لیگ کونسل کا اجلاس تها اجلاس میں یه قرارداد پیش کی جانی تهی۔ لیکن میں اسے پیش نه کرسکتا تها۔ کیونکه میں کونسل کا ممبر نه تھا۔ چنانچه یه قرارداد جناب عبدالرحمٰن صدیقی صاحب نے پیش کی۔اس قرارداد میں یه فقره بھی تھا که مسلم لیگ کی آفیشل زبان اردو ھوگی۔

پاکستان کے هیرو

کونسل کے بعض ارکان نے اس قرارداد کے حق میں اور بعض نے اس کے خلاف رائے دی۔ آخر اس قرارداد کے متزکره بالا فقرے کو اس طرح بدل دیا گیا که " هر ممکن کوشش کی جائگی که اردو تمام هندوستان کی عام زبان هوجائے گی"۔ سن 1939 میں انجمن ترقی اردو دهلی منتقل هوگئ۔ اور 1945 میں مولوی سید هاشمی کی درخواست پر قائداعظمؒ انجمن میں تشریف لائے اور همارے ساتھ لنچ کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر ضیاء الدین مرحوم نواب زاده لیاقت علی خان سید حسین امام اور چند اور صاحبان کو بھی دعوت دی گئ تھی۔ قائداعظم لنچ سے پهلے آگئے دیر تک باتیں کرتے رهے اور انجمن کی مطبوعات وغیره کا معائنه کیا۔ میں نے انھیں انجمن کی انگریزی اردو لغات اور سر سید احمد خان کی اردو یونیورسٹی کی تجویز کی ایک نقل نذر کی، جو وه ساتھ لے گئے۔ کچھ دنوں بعد انھیں اینگلو عربک کالج کے طلبه نے کالج میں تقریر کی دعوت دی۔ اس دعوت سے قبل انھیں رات کا کھانا بھی دیا گیا۔ کھانے کے بعد قائداعظم نے مجھ سے کها که انھوں نے سب سے پهلی اردو کی تقریر بنگال کے کسی مقام پر کی۔ اس مجمع میں هزاروں آدمیوں کا مجمع تھا۔ جن میں سے انگریزی جاننے والے تقریباً 500 اور اردو جاننے والے تقریباً ڈیڑھ هزار تھے۔ اس موقع پر قائداعظم نے فرمایا که میری اردو تانگه والے کی اردو هے۔

سن 1946ء میں مسلم لیگ کونسل کا ایک اجلاس دهلی میں ھوا اس اجلاس میں سرفیروز خان نون نے اپنی تقریر اردو کے بجائے انگریزی میں کرنے پر اصرار کیا۔ اور اس کا جواز یه پیش کیا که مسٹر جناح بھی انگریزی میں تقریر کرتے ھیں۔ اس پر قائداعظم نے صریح اور صاف لفظوں میں فرمایا که "سر فیروز خان نون نے میرے پیچھے پناه لی ھے لهٰذا میں اعلان کرتا هوں که پاکستان کی سرکاری زبان اردو ھوگی"۔

فروری 1946ء میں انجمن ترقی اردو کی سالانه کانفرنس بمبئ میں هوئ اس کے لیے قائداعظم نے اپنا همت افزا پیغام بھیجا جسے سن کر حاضرین نے خوشی کے نعرے لگائے۔ اور اس جوش سے تالیاں بجائیں که سارا پنڈال گونج اٹھا۔ انجمن ترقی اردو نے حکومت ھند سے نئ دهلی میں اپنی عمارت کے لیے ایک خطء اراضی خریدا تھا جس کے لیے میں جگه جگه چنده جمع کر رها تھا۔ اس سلسلے میں حضور نظام نواب پیر مئیر عثمان علی نظام حیدرآباد سے بهت اچھا عطیه ملنے کی توقع تھی۔ میں نے قائداعظم سے حضور نظام کے نام ایک سفارشی خط دینے کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا که خط لکھنا مناسب نهیں۔ کیونکه لوگوں نے پهلے هی مجھے بدنام کررکھا هے که حضور نظام مجھے چھ لاکھ روپے سالانه دیتے ھیں۔ تاهم آپ نے فرمایا که عنقریب میں حیدرآباد جانے والا ھوں۔ اس وقت اعلٰی حضرت سے امداد کے لیے بالمشافه کهوں گا۔

قائداعظم حیدرآباد گئے۔ اور انھوں نے حضور نظام سے اس سلسلے میں بات بھی کی لیکن افسوس که جو امیدیں حضور نظام سے تھیں وه پوری نه هوئیں۔ حضرت قائداعظم کے اس دورهء حیدرآباد کی بهت اھم اور دلچسپ تفصیلات بابائے اردو سے ملتی هیں۔ حیدرآباد کا ھوائ اڈه شهر سے کوئ 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ھے ھزارھا آدمی قائداعظم کے استقبال کے لیے ھوائ اڈه اور راستوں پر موجود تھے دو انگریزوں نے قائداعظم کو جهاز سے اپنی پٹرول گاڑی میں سوار کیا اور انھیں بڑی مشکل سے اس ھجوم سے نکال کر لے گئے۔ دوسرے دن سه پهر کو دارالسلام حیدرآباد میں قائداعظم کی تقریر تھی۔ تقریباً ایک لاکھ کا مجمع تھا۔ انھوں نے بهت صاف اور اچھی اردو میں تقریر کی۔ یه تقریر 45 منٹ کی تھی۔ اس کے بعد انهوں نے انگریزی میں تقریر کرنی شروع کی۔ دوسرے دن میں نے انھیں ایسی اچھی اردو تقریر کرنے پر مبارکباد دی۔ تو جواباً انھوں نے کها که "آپ اردو کے ماسٹر ﴿استاد﴾ ھیں" میں نے انھیں کها که اب آپ کبھی یه نه کهیے که میری اردو تانگه والی اردو ھے۔ اس پر وه مسکرائے۔

قیام پاکستان کے بعد حکومت سندھ نے انجمن ترقی اردو کو ایک اچھی عمارت دے دی۔ انجمن کے ارکان چاهتے تھے که حضرت قائداعظمؒ اس نئے دفتر کا افتتاح فرمائیں۔ وه رضامند بھی هوگئے۔ لیکن انھیں پهلے گوناگوں مصروفیات نے اور پھر موت نے آن گھیرا اور وه هم سے همیشه کے لیے جدا هوگئے۔


اوپر جائیں واپس جائیں یه صفحه پرنٹ کریں
 کاشف فاروق کی جانب سے اردو ادب میں خوش آمدید
urduunicodegif
اشتهارات

 

دو سو ساله کیلنڈر
دو سو ساله کیلینڈر دیکھیں



Hosted by www.Geocities.ws

1