خاندانی نظام



مئ 15 سن 2005۔



بکھرتے ھوۓ خاندانی نظام کو سھارا دیں

فیملی ڈے کے حوالے سے خصوصی فیچر


خاندان پیار اور محبت سے جڑے هوۓ رشتوں کا نام هے جسے مضبوط کرنے کی ضرورت ھے۔ مشرق میں مضبوط خاندان آج بھی اسکی روایات کا حصه هے جس میں والدین اور بچے مل جل کر زندگی گزارتے هیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک هوتے ھیں۔ دادا دادی نانا نانی اکثر بچوں کی تربیت کے لیے ایک انسٹی ٹیوٹ کا کام دیتے ھیں۔ لیکن افسوس که هماری یه روایات کمزور پڑتی جارهی ھیں حالانکه خود مغرب بھی مشرق کے اس خاندانی روایات سے بهت اثر قبول کررهے ھیں جهاں آج تک کوئ بھی بچه سن بلوغت تک پهنچتے هی مادر پدر آزاد هوجاتا هے۔ لیکن اب وهاں رهنے والے والدین بھی بچوں کے ایسے رویے سے خوش دکھائ نهیں دیتے لیکن انهیں اپنی روایات کا پاس هے جن کے تحت والدین کو یه اختیار نهیں هے که وه بچوں کو انکی کسی غلطی پر ٹوک سکیں یا کچھ کهه سکیں۔ خاندان کے فوائد کو مدنظر رکھتے ھوۓ 15 مئ کو فیملی ڈے منایا گیا که ھم خاندان کی صورت میں جڑے رهنے کو ترجیح دیں گے۔ اس سے جڑے ھوۓ هر رشتے کو عزت و احترام دیں گے۔

همارے بزرگ جو اب اپنی اولاد کی خدمت نھیں کرسکتے بلکه وه اپنی اولاد پر انحصار کرنے لگے هیں انھیں هم پھولوں کی طرح رکھیں گے۔ ان کی کسی بات کا برا نهیں منائیں گے۔ نه صرف خود انکی عزت کریں گے بلکه اپنے بچوں کو بھی درس دیں گے۔ کیونکه انسان جو بوتا ھے وهی کاٹتا هے۔ اگر آپ اپنے والدین کی عزت نھیں کریں گے تو آپ کی اولاد بھی آپ کے لیے اپنے دلوں میں اچھے جذبات نھیں رکھے گی۔ اس لۓ که وه آپ سے وهی کچھ سیکھے گی جس کا مظاهره آپ کریں گے۔

فیملی ڈے ان لوگوں کے لیے لمحه فکریه ھے جو اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ هوم میں چھوڑ کر دنیا کی مصروفیات میں گم ھوگۓ هیں۔ ان اولڈ ھومز میں پڑھے ھوۓ بزرگوں کی آّنکھیں کسی اپنے کی آمد کی منتظر هیں۔ نه جانے یه پر نم آنکھیں کب خاموشی کا لباده اووڑھ لیں اور جب آپ کو خبر ملے تو آپ کو احساس هوگا که اب بهت دیر هوچکی۔

پھر گزرا وقت واپس نھیں آۓ گا که آپ کو موقع مل نه سکے که آپ اپنے بزرگوں کی خدمت کرسکیں ، انھیں ان کے خاندان سے فیملی سے دور مت کریں، جس کا خواب انھوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا که کب میرے پوتے پوتیاں یا نواسے نواسیاں میرے پاس بیٹھ کر کهانی کی فرمائش کریں گے۔ یا هم پر اپنا حق جتائیں گے۔ دولت کی هوس همیں اقدار اور روایات سے دور لیتی جارهی هے۔ جب ایک گھر میں دادا دادی بچوں کو کهانی سناتے تھے، چچا بچوں کا لاڈ اٹھاتے تھے اور پھوپھی سے بچوں کو والهانه پیار هوتا تھا سب مل جل کر رهتے تھے، تو گھر میں خوشیوں کی بهار اور قهقهوں کی سدا سنائ دیتی تھی۔ بڑی بڑی حویلیوں میں خاندان کے اکٹھے رهتے تھے گو که اس میں بھی کچھ قباحتیں موجود هیں همیں ان قباحتوں کو دور کرنا هے نه که اپنا خاندانی نظام هی منتشر کردینا هے۔ جس میں غلط کاموں پر سمجھانے والا اور برے کاموں سے روکنے والا کوئ نهیں ھوگا۔ اور پھر هم برائ کی دلدل میں پھنستے چلے جائیں گے۔ اور آخر میں تنهائ کے سوا کچھ نهیں بچے گا۔


اوپر جائیں واپس جائیں یه صفحه پرنٹ کریں
 کاشف فاروق کی جانب سے اردو ادب میں خوش آمدید
urduunicodegif
اشتهارات

ملکی حالات و واقعات

 

دو سو ساله کیلنڈر دیکھیں
دو سو ساله کیلینڈر دیکھیں اور فری پرنٹ بھی لیں




Hosted by www.Geocities.ws

1