Javascript Menu by Deluxe-Menu.com



هفته 8 اکتوبر 2005 ء کا سورج جب طلوع هوا تو قدرت نے یه سارے تصورات خیالات الزامات اور بداعتمادیوں کو ایک جھٹکے میں زمین بوس کردیا۔


پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا زلزله


هفته 8 اکتوبر 2005 ء کا سورج جب طلوع هوا تو قدرت نے یه سارے تصورات خیالات الزامات اور بداعتمادیوں کو ایک جھٹکے میں زمین بوس کردیا۔ 8 اکتوبر کی صبح ملک کے بالائ حصوں میں قیامت بن کر آئ۔ 7.6 پر آنے والے زلزلے نے کئ شهروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دیهات صفحهء هستی سے مٹ گۓ۔ هزاروں افراد لقمهء اجل بن گۓ۔ اسلآم آباد سمیت لاهور ملتان بھی اس کی لپیٹ میں آۓ۔ مگر آزاد کشمیر اور شمالی علاقه جات مظفرآباد باغ اور صوبه سرحد کے کئ علاقے بٹ گرام مانسهرا اور ایبٹ آباد وغیره تو جیسے تھے هی نهیں۔ سب کھنڈرات میں تبدیل هوگۓ۔ پهاڑوں نے اپنے هی لوگوں کو نگل لیا۔ اسلام آباد میں 10 منزله عمارت مارگله ٹاور نے اپنے هی مکینوں کو دبا دیا۔ ایک ایسا سانحه برپا هوا که تاریخ کے وه ابواب ذهنوں میں گھوم گۓ جس میں قدرتی آفات نے عذاب الٰهی کی شکل میں شهروں کو نابود کردیا قوموں کو صفحه هستی سے غائب کردیا۔

زلزلے کا مرکز بالاکوٹ کے انتهائ قریب تھا۔ جو پهلے قراقرم کے قریب تھا، اب اسلام آباد سے صرف سو کلومیٹر کے فاصلے پر هے۔ 3 اکتوبر 2005 ء کو پاکستان میں نظر آنے والا سورج گرهن اچھا ثابت نه هوا۔ جس کی وجه سے زلزله جیسی مشکلات سے ملک کو دوچار هونے پڑا۔ سورج گرهن نظر آنے کے بعد اکثر طوفانات، زلزلے اور جنگوں جیسی مشکلات کا سامنا هوتا هے۔ 3 اکتوبر کو نظر آنے والا گرهن بھی پاکستان کے لیے مثبت ثابت نه هوسکا۔ اس زلزلے کا دورانیه اسلام آباد میں 6 منٹ تھا اور لاهور میں 2 منٹ کےقریب تھا۔ کوئٹه میں 1935 ء کے زلزلے کا دورانیه 10 منٹ تک تھا، جبکه ریکٹر اسکیل پر دونوں کی شدت ایک هی تھی۔


برصغیر اس وقت تقریباً 45 ملی میٹر سالانه کی شرح سے ایشیا میں دھنس رها هے۔ اور آهسته آهنسته گھڑی کی مخالف سمت میں گھوم رها هے جس کے نتیجے میں برصغیر کے مغربی حصے بلوچستان میں تبدیلی کی حرکت تقریباً 42 ملی میٹر سالانه اور مشرقی حصے هندو بری پهاڑی سلسلے میں 55 ملی میٹر سالانه هے۔ ایشیا کے اندر تبدیلیوں کی وجه سے برصغیر کا تبت کے ساتھ 18 ملیمیٹر فی سال کی شرح سے سمٹاؤ کم هورها هے۔ تبت مشرق و مغرب کی طرف پهیلتا جارها هے۔ اس لیے همالیه کا کا سمٹاؤ ایک آرک کی مانند هے۔ اس سمٹاؤ سے سلیب پیدا هوتی هے۔ جس کی وجه سے همالیه کے نیچے بڑے بڑے زلزلے پیدا هوتے هیں جس کی شرح ایک عشاریه آٹھ ایم فی صدی هوتی هے۔


ماضی کے زلزلوں کی تاریخ سے اخذ کیا گیا تھا که اس علاقے میں بڑا زلزله آسکتا هے۔ یه کلیه پورے همالیه کے لۓ هے۔ انڈین پلیٹ کی برما میں واقع مشرقی حدود سے پاکستان افغانستان اور بلوچستان میں واقع مشرقی حدود تک صادق آتا هےکه یهاں پر 8 ایم کی شدت کا زلزله آسکتا هے۔ وسطی همالیائ گیپ بهت خطرناک هے۔ یهاں سن 1505 ء میں 600 میٹر زمین کھسک گئ تھی۔ کها گیا تھا که زمین کا دوباره شق هونا تباه کن هوگا۔ یه وهی علاقه هے جهاں 8 اکتوبر 2005 ء کو زلزله آیا تھا۔


مین پیج
پرنٹ کریں
Hosted by www.Geocities.ws

1