آج دنيا اکيسويں صدى ميں قدم رکه رہى ہے۔ انسان چاند سے آگے جانے کيلۓ کوشاں ہے۔ ساﺋنس اور ٹيکنالوجى کى ترقى نے دنيا کو سميٹ کر رکه ديا ہے۔ بلاشبہ آج کے دور کو اليکٹرونک کا دور کہا جاسکتا ہے۔
دنيا کے کﺋى ممالک ميں آپ کو جابجا ايسے لوگ مليں گے جو آپ کو آنے والے کل کے بارے ميں بتانا چاہيں گے۔ يا آپ کو اگر مستقبل کے بارے ميں جاننے کى خواہش ہے تو آپ سے معاوضہ لے کر آپ کو مستقبل کے بارے ميں آگاہ کريں گے۔
مستقبل کا حال جاننے کى خواہش کسے نہيں ہوتى۔ ہر کوﺋ چاہتا ہے کہ اسے آنے والے کل کے حوالے سے
معلوم هو اور يہى خواہش اسے کبهى کسى دست شناس کے پاس لے جاتى ہے تو کوﺋ کسى ہندسوں کے جاننے
والے کے پاس اور کوﺋ طوطا فال والے کے پاس بيٹها نظر آتا ہے تو کوﺋ تاش کے پتوں سے اپنى قسمت معلوم
کرنے کا متمنى ہوتا ہے۔
انسان کى فطرت کو اگرچہ سمجهنا دشوار ہے، ليکن جو چيزيں انسان کو فطرت کو سمجهنے ميں مدد ديتى
ہيں ان ميں سب سے باﻻ درجہ ہاته کا ہے۔ قدرت نے آپ کے ہاتهوں پر لکيروں کے جو نقش و نگار بناۓ
ہيں وه سب آپ کي خفيہ زندگى کے خُفيہ رازوں کا خزانہ ہيں۔
يہ نقش و نگار آپ کى عادات و زندگى کى منازل کى نشاندہى کرتے ہيں۔
پورى دنيا ميں
آج، کل، آنے والے کل
کا حال بتانے کے مختلف طريقہ کار ہيں۔ جس ميں
علم نجوم، جادوگرى،
شعبده بازى، طوطا فال قسمت کے پتے، علم قيافہ، چاۓ کى پيالى ميں قسمت، تعويزات، عمليات، پانسہ پهينک
کر قسمت کا حال معلوم کرنا اور ہندسوں
سے بهى مستقبل کے بارے ميں جاننے کا دعوىٰ کيا جاتا ہے۔