اکيسويں صدى اور مستقبل کى تلاش



اکيسويں صدى اور مستقبل کى تلاش ناگى بى اے کى نظر ميں


آج دنيا اکيسويں صدى ميں قدم رکه رہى ہے۔ انسان چاند سے آگے جانے کيلۓ کوشاں ہے۔ ساﺋنس اور ٹيکنالوجى کى ترقى نے دنيا کو سميٹ کر رکه ديا ہے۔ بلاشبہ آج کے دور کو اليکٹرونک کا دور کہا جاسکتا ہے۔

دنيا کے کﺋى ممالک ميں آپ کو جابجا ايسے لوگ مليں گے جو آپ کو آنے والے کل کے بارے ميں بتانا چاہيں گے۔ يا آپ کو اگر مستقبل کے بارے ميں جاننے کى خواہش ہے تو آپ سے معاوضہ لے کر آپ کو مستقبل کے بارے ميں آگاہ کريں گے۔

مستقبل کا حال جاننے کى خواہش کسے نہيں ہوتى۔ ہر کوﺋ چاہتا ہے کہ اسے آنے والے کل کے حوالے سے معلوم هو اور يہى خواہش اسے کبهى کسى دست شناس کے پاس لے جاتى ہے تو کوﺋ کسى ہندسوں کے جاننے والے کے پاس اور کوﺋ طوطا فال والے کے پاس بيٹها نظر آتا ہے تو کوﺋ تاش کے پتوں سے اپنى قسمت معلوم کرنے کا متمنى ہوتا ہے۔ انسان کى فطرت کو اگرچہ سمجهنا دشوار ہے، ليکن جو چيزيں انسان کو فطرت کو سمجهنے ميں مدد ديتى ہيں ان ميں سب سے باﻻ درجہ ہاته کا ہے۔ قدرت نے آپ کے ہاتهوں پر لکيروں کے جو نقش و نگار بناۓ ہيں وه سب آپ کي خفيہ زندگى کے خُفيہ رازوں کا خزانہ ہيں۔ يہ نقش و نگار آپ کى عادات و زندگى کى منازل کى نشاندہى کرتے ہيں۔ پورى دنيا ميں آج، کل، آنے والے کل کا حال بتانے کے مختلف طريقہ کار ہيں۔ جس ميں علم نجوم، جادوگرى، شعبده بازى، طوطا فال قسمت کے پتے، علم قيافہ، چاۓ کى پيالى ميں قسمت، تعويزات، عمليات، پانسہ پهينک کر قسمت کا حال معلوم کرنا اور ہندسوں سے بهى مستقبل کے بارے ميں جاننے کا دعوىٰ کيا جاتا ہے۔



مزيد اوپر جائيں



شہزاده سيد انتظار حسين شاہ زنجانى کى ۲۰۰۰ء کى جنترى کى کچهـ درست پيشنگوئياں جو درست ثابت ہوئيں

پاکستان



انکى زنجانى جنترى کے مطابق صفحه نمبر ۳۱ پر انہوں نے لکها ہے کہ انتخابات کى صورت ميں نتائج خلاف توقع يعنى دونوں بڑى پارٹيوں کا سورج غروب هوگا۔

يہ دونوں پارٹياں ہيں مسلم ليگ (ن) اور پى پى پى۔

اسکے بعد انہوں نے صفحه نمبر ۳۹ ميں کهيلوں کے متعلق بيان کيا کہ ۲۱ جنورى سن دوهزار کو برج سرطان اور اسد کے کسپ پر مکمل چاند گرہن لگے گا اسکے اثرات ۲۱ دسمبر ۹۹ء تا ۲۱ فرورى ۲۰۰۰ء سياسى طور سے شدت کے ساتهـ محسوس کئے جاسکيں گے۔ تفريحات اور کهيلوں کے ميدان ميں بهى قومى ٹيموں ميں اضطراب اور بے چينى کى کيفيت رہے گى۔

يه پيشن گوئى ايسے درست ہوئى کہ پاکستان ۹۹ء کے ورلڈ کپ ميں شکست کے بعد سے قومى کرکٹ ٹيم پر سختى اور زوال آيا تها۔

فحاشى، ڈکيتى اور عريانى ميں اضافه ہو جائگا۔

اس پيشنگوئى کو بهى درست ہى سمجهيں آئے دن اخبارات ميں بدنام گائوں فيروزواﻻ کى ڈکيتيوں کى خبريں چهپتى رہتى ہيں اور اب انکى وارداتوں ميں اضافہ ہورہا ہے۔

کشمير



سيد زنجانى صاحب نے کشمير کے بارے ميں صفحه نمبر 44 ميں بيان کيا کہ ۲۰۰۰ء کشمير کى آزادى کے ليے بے حد اہم مثبت اثرات کا حامل ثابت ہوگا۔ پاک بهارت مثبت مذاکرات اور تصفيہ کشمير کے حل کا آغاز شروع ہوجائے گا۔

يه پيشنگوئى ايسے درست ہوئى که صدر مشرف صاحب کا ۲۰۰۱ء ميں دورہء بهارت ہوا تها۔ اور اس مسئله کے حل کى سفارتى کوششوں کا آغاز ہوا۔


بهارت



انہوں نے صفحه نمبر 41 ميں کہا تها کہ بهارتى حکومت ہمسايہ ممالک خصوصاً پاکستان سے اپنے سفارتى تعلقات ميں بہترى ﻻنے اور تنازعہ کشمير کے سلسلے ميں بين اﻻقوامى دبائو کے نتيجے ميں سياسى مذاکرات کا پهر سے آغاز کرے گى۔

يہ پيشنگوئى ايسے درست ہوئى کہ صدر پرويز مشرف کا دورهء بهارت ۲۰۰۱ء ميں ہوا تها اور اس مسئلے کے سفارتى حل کى کوششوں کا آغاز ہوچکا تها۔


امريکہ



سيد زنجانى صاحب نے صفحه نمبر 41 ميں کہا تها کہ ماضى کے قريب امريکه جن حاﻻت سے گذرا ہے اس کا تسلسل آئندہ بهى رہے گا۔ خﻻئى منصوبوں اور قومى ترقى کے امور ميں حکومت کو کسى بڑے حادثہ کا انديشہ رہے گا۔ کسى سائنسى ليبارٹرى يا تحقيقى اداره ميں تکنيکى غلطى يا تخريب کارى بهارى نقصان هو۔

ستمبر11 - ۲۰۰۱ء کا واقعہ آپ سب کى نظروں ميں ہے۔ اور تحقيقى اداره پينٹاگون ہے جس پر بهى حمله ہوا تها۔ لہٰذا يہ پيشنگوئى بهى درست ہوئى۔

اس کے بعد سيد زنجانى صاحب نے بيان کيا کہ غير ملکى سفر کے دوران مشکلات کا سامنا ہوگا۔

يہ پيشنگوئى ايسے درست ہوئى کہ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعے کے بعد سے آج کے دور ميں ۲۰۰۵ء ميں مسلمانوں کو سفر کرنے ميں بہت دشوارى کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پهر انہوں نے صفحه نمبر 42 ميں کہا کہ نامور اور مشہور شخصيات تشويش کا شکار رہيں گى۔

يه بات بهى درست ہوئى۔ جيسا کہ آج ۲۰۰۵ء کے دور ميں جارج بُش پريشانيوں اور مشکلات کا شکار ہيں۔

پهر انہوں نے کہا کہ ان ميں سے کچهـ کو حکومتى سطح سے زوال ہوسکتا ہے۔

يه بات صدر صدام حسين کے اقتدار کى طرف اشارہ کرتى ہے۔

پهر انہوں نے کہا کہ امريکه کے خلاف کچهـ مجرمانہ اور سازشى اتحاد اس کى تباہى کى تدبيريں کريں گى۔ جس سے نبٹنے کے ليے فوجى معرکہ عمل ميں آئے گا۔

يه بات بهى درست ہوئى ۔ يه تمام پيشنگوئياں سن ۲۰۰۰ء ميں کى گئيں تهيں۔ جبکه افغانستان پر ۲۰۰۱ء ميں حملہ ہوا تها اور اس کے نتيجے ميں القاعدہ سر گرم ہوئى۔ يه اتحاد کى طرف اشارہ ہے۔ اور فوجى معرکہ اسطرح ہوا کہ جيسے صدر پاکستان مشرف صاحب نے بلوچستان اور سرحد کے علاقہ غير يعنى وانا وغيرہ ميں آپريشن کيا۔ جو تاحال ۲۰۰۵ء تک جارى ہے۔

پهر انہوں نے کہا کہ بيروزگارى بڑهے گى، حکومتى سطح پر اہم شخصيات يا شخصيت کے انتقال کى نشاندہى کرتى ہے۔

يه پيشنگوئى بهى درست ہوئى۔ جيسا کہ آپ سب جانتے ہيں کہ بے روزگارى کا تو پورے ملک ميں راج ہے، اور انتقال جناب نصر اللہ صاحب کا ہوا۔


اوپر جائیں واپس جائیں یه صفحه پرنٹ کریں
 کاشف فاروق کی جانب سے اردو ادب میں خوش آمدید
urduunicodegif
اشتهارات

ملکی حالات و واقعات

 

دو سو ساله کیلنڈر دیکھیں
دو سو ساله کیلینڈر دیکھیں اور فری پرنٹ بھی لیں



Hosted by www.Geocities.ws

1