جنتری 2005ء کے
صفحه نمبر 32 میں ایک جگه کها گیا ھے که صدر پاکستان پرویز مشرف اور وزیراعظم
شوکت عزیز کے دور وزارت عظمیٰ کی مدت طویل نظر نھیں آتی سن 2005ء ان کے دور
اقتدار کا آخری سال ثابت ھوگا۔
شوکت عزیز کو اپنے محسن پرویز مشرف کی وردی بچانے کے لیے
زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مئ کا مھینھ خصوصاً 15 تا 25 مئ وزیراعظم
کو اپنے پروٹوکول کا خاص خیال رکھنا ھوگا۔ انے کے خلاف فی میل سازش ھوسکتی ھے۔
صدر مملکت پرویز مشرف اپنی کرسی وردی بچانے کےلیے مارشل
لاء جیسا صدارتی نظام اچانک متعارف کروادیں تو بعید از قیاس نھ ھوگا۔ زمانھ رجعت
میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد بننے میں غیر یقینی کی کیفیت ھوگی۔ مگر 22 مارچ تا
15 جولائ 2005 تک زحل جب سیدھا ھوگا اپوزیشن حکومت کو نھایت سخت وقت دے گی۔ تب
تک اپوزیشن حکومت کو فتح نھ کرسکی تو 16 جولائ زحل اڑھائ سال کے لیے اپنے دوسرے
اور آخری وبالی برج اسد میں چلا جاۓ گا۔ 2005ء میں زحل مریخ سے 3 مرتبه کے بعد
دیگرے 31 جولائ 19 نومبر اور 28 دسمبر 2005ء تربیعات بناۓ گا۔ یه وه وقت ھوگا جب
عسکری حکمران سیاست دانوں کو کوئ سبق سکھائیں۔
تصفیھ کشمیر کے سلسلے میں پاک بھارت مزاکرات 2005 یا 2006 میں کسی منطقی انجام
کو پهنچیں گے۔ اور آزادئ کشمیر کا آبرومندانه حل نکل آۓ گا۔ چوده مارچ اور
اٹھاره اگست پڑوسی ملک سے تصفیھ کشمیر کے حل کے لیے پیش رفت ھوگی۔ نو اپریل سورج
گرھن ملکی داخلی امور میں پریشانیاں لاسکتا هے۔ 24 اپریل چاند گرھن حکومت کی
جانب سے قوم سے کۓ وعدے متاثر ھوسکتے ھیں۔
اپریل تا جون حکومت اور اپوزیشن سیاسی محاذ آرائ میں اضافھ ھوگا۔ سیات دانوں کو
جنرل مشرف کی جاری کرده جمھوریت کو غنیمت جاننا چاھۓ۔ ورنه انھیں سیاسی بساط
لپیٹنے کےلیے اس سال کئ مشورے ملتے رھیں گے۔ یھ سال بھی ملکی سیاسی تاریخ و
سیاست میں نظام بدلنے جیسی طاقت رکھتا ھے۔
روحانی سال میں یورینس کی زائچه میں اھم نسشت کے سبب اندرون ملک تیل گیس معدنیات
کے وسیع ذخائر ملنے کے علاوه ملکی میڈیا انڈسٹری بھت ترقی کرے گی۔ نۓ نۓ ٹی وی چینلز
آنے سے آپس میں مقابلے کا رجحان بڑھے گا۔
صفحه نمبر 32
کے مطابق
پاکستان
ناسٹرو ڈیمس کی
پیشگوئ مجاھد اسلام ھمارے نزدیک حضرت امام محمد مھدی آخرالزمان علیھ السلام کی
ظھور آمد کا وقت قریب آن پھنچا ھے۔ اس سے قبل کے اسلام پوری دنیا پر غالب آۓ اور
یھود و نصٰریٰ مل کر اسی طرح دربار فرعون کے منجمین کی قرآنی پیش گوئیوں کو غلط
ثابت کرنے کی کوشش کررھے ھیں۔ کھ کوئ حضرت موسیٰ علیھ السلام پیدا نھ ھو۔
میری پیش گوئ نوٹ کرلیں کھ امیرکھ چار سال بعد نۓ
الیکشن سے قبل خود متحده ھاۓ امریکھ متحده نھ رھے گا۔ بلکھ اسکی کئیں ریاستیں
مرکز کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیں گی اور اس کے کئ ساحلی شھر مکمل یا جزوی طور
سے سمندر کی تهه میں ڈوب جائیں گے۔
پچیس مئ 2005ء کو زحل آکر نوبمر 2007ء تک وتد الارض کو ناظر ھوگا۔ یه وه وقت
نحوست ھوگا جب امریکه کی ریاستیں سیاسی بغاوت کرکے وفاق کی خارجه پالیسی پر نقطه
چینی کرتی ھوئ اس سے علحیدگی پسندی پر زور دیں گی۔ امریکی معیشت میں کمزوری اور
خارجه پالیسیوں کی دنیا بھر میں خود امیرکه میں مخالفت کی جائگی۔ 31 جولائ 19
نومبر اور 28 دسمبر اندرون ملک ناگھانی آفات سمندری طوفان زلزلے حادثات میں شدت
خصوصاً اھم شخصیات بھی متاثر ھوسکتی ھیں۔ 2005ء روحانی سال میں سپر پاور کی بھی
سپر پاور اپنی روحانی عدالت میں متحده امریکه کے خلاف فیصله صادر کریگی۔
پچھلی صدی میں برطانیه جس طرح زوال پذیر ھوا امریکه بھی عراق افغانستان اور
سوڈان میں الجھ کر مکافات عمل کے نتیجے میں اپنے فوجیوں کے تابوت وصول کرنے سے
ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھوگا۔ عراق میں فتح بھت ضروری ھے والی
امریکی پالیسی بدل جائگی۔
صفحه نمبر 36
تا 39 کے مطابق
امریکه
ایران کا واحد
کھلا دشمن امریکه ایران پر کوئ عسکری سیاسی وار کرکے زبردست نقصان پهنچانے کی
کوشش کرسکتا ھے۔ ایرانی سنجیده قیادت تب روحانی قوتوں سے رجوع کر سکتی ھے۔
قارئین کی روحانی دلچسپی کے لیے عرض ھے کھ ایران دنیا کا
واحد اسلامی ملک ھے جس کے پهلے اسلامی آئین میں درج ھے کھ یه مملکت امام زمانه
محمد مهدی آخر الزمان علیھ السلام کی ملکیت ھے جب ظھور امام ھوگا تو یه حکومت ان
کے حوالے کردی جائگی۔ یه وهی روحانی قوت ھے جس کے خلاف امریکه
ناسٹرو ڈیمس کی پیشگوئیوں کے مطابق پورے عالم اسلام سے
لڑ رھا ھے۔ حالانکه قرآن میں قوم یهود و نصٰریٰ کی عداوت کی پیشگوئ درج ھے۔