|
|
ومن
يؤتي
الحكمة
فقدأوتي
خيرا
كثيرا |
|
كائنات
كے نظام كي
كنجي علم ہے
خالق
كائنات كے
علم سے ہي يہ
نظام قائم
ہے اسي
حقيقت كا
راز اولين
وحي ميں
مضمر ہے دين
متين كے
پروانے جب
اس حقيقت كو
جان گۓ تو
معلم عالم
بن گۓ اسلام
ديني اور
دنياوي
دونوں علوم
كي ترغيب
ديتا ہے اور
ان ميں كوئي
تفريق نہيں
كرتا ديني
علوم جيسے
كلام اللہ
احاديث
وفقہ كے
حصول تكي
بھي ترغيب
ديتا ہے اور
دنياوي
علوم جيسے
رياضي طب
كيميا
وغيرہ كي
بھي ہمارے
علماء ان
دونوں علوم
كے ماہر
ہوتے تھے ان
دونوں ميں
مہارت حاصل
كرنے كے بعد
كسي خاص
شعبہ كي تہہ
تك پہنچنے
كي كوشش
كرتے تھے
رفتہ رفتہ
ان علوم پر
زيادہ توجہ
دينے لگے جو
عوام كے
لۓاس دنيا
ميں زيادہ
مفيد ہوں
يہاں
سےسائنس كا
فروغ شروع
ہوا كوئي طب
كا ماہر بن
گيا كوئي
رياضي كا
كوئي كيميا
كا كوئي
اقليدس كا
كوئي
فلكيات كا
كوئي علم
بينائي كا
كوئي علم
نبادات كا
يا جماليات
كا علوم كے
حصول ميں
مسلمانوں
نے تنگ نظري
و تعصب سے
كام نہ ليا
بلكہ علم كو
ايك گمشدہ
لعل جانا
اور جہاں
پايا اس كو
اپنا ہي مال
سمجھا
چنانچہ
يونان كا
ايران كا
ہندوستان
كا روم كا
مصر كا ہر
جگہ كا علمي
و تہزيبي
خزانہ
عربوں كے
ہاتھ آيا
انہوں نے
جوں كا توں
اس كو اٹھا
كر اپنے
علمي خزانے
مين جمع
نہيں كرليا
بلكہ اس كتو
جانچا پر
كھا
كھنگالا
اور جو
بہترين
نكلا اس كو
چن كر نگينہ
كي طرع اپنے
تاج ميں
جوڑليا
ہماري يہ
ويب سائٹ
مسلم
سائنسدانوں
كے
كارناموں
سے بھري پڑي
ہے مسلم
سائنسدان
صرف كسي ايك
خاص موضوع
پر ہي اپني
توجہ مبذول
نہيں كرتے
تھے بلكہ كئ
شعبوں پر
حاوي ہو كر
كسي ايك پر
كمال كي حد
تك ماہر بن
جاتے تھے
چنانچہ
جابر بن
حيان جو
كيمسا كا
باوا آدم
سمجھا جاتا
ہے صوفي بھي
تھا رياضي
دان بھي
طبعيات كا
ماہر بھي
اور طبيب
حاذق بھي
الخوارزمي
جو رياضي كا
مہر انور
مانا جاتا
ہے فلكيات
پر بھي اس نے
تحقيق كي ہے
فلسفہ پر
بھي موسيقي
پر بھي فقہ
پر بھي
كيميا پر
بھي تاريخ
پر بھي
جغرافيہ پر
بھي
البيروني
بہ يك وقت
سياح بھي
تھا رياضي
دان بھي
ماہر
فلكيات بھي
جغرافيہ
دان بھي
تاريخ دان
بھي
معدنيات كا
بھي ماہر
طبقات
الارض كا
بھي خواص
الادويہ كا
بھي ادب كا
بھي شاعري
كا بھ يفنون
لطيفہ كا
بھي اور علم
الاقوام كا
بھي اس كي
١٨١ كتابيں
اس بات كي
شاہد ہيں كہ
وا بذات خود
ايك اكيڈمي
تھا
نہدوستان
آكر سنسكرت
سيكھا اور
جو كتاب
الہند لكھي
وہ معركة
الآراء
تصنيف قرار
دي گئي
الكندي جو
فلسفہ كا
مہر تاباں
سمجھا
جاتاہے
رياضيات
فلكيات
بصريات
سياسيات
كيميا
اقليدس طب
نجوم
متوسيقي كا
ماہر تھا جس
نے
٢٥٦كتابيں
لكھي ہيں اس
طرح ہمارے
سب
سائنسدان
معارف
العلوم
ہوتے تھے
انہوں نے
اپنا زاويہ
نگاہ
معقولات
اور
منقولات پر
نہي نہيں
ركھا بلكہ
اسلامي طرز
تحقيق كے
بتاۓ ہوۓ
اسلوب نعني
عين اليقين
اور علم
اليقين ميں
ڈوب كر حق
اليقين كو
اپنا نصب
العين قرار
ديا تھا
كائنات كے
ذرے ذرے كو
اپنا
تحقيقي
موضوع
بناكر علم
كا دريا
بہايا تھا
وجود آدم سے
اپنے عہد تك
ارتقائ
فكرو عمل كا
نچوڑ پيش
كرتے ہوۓ
خود اپنے
فكرو عمل سے
اس خزانے كو
مالامال
كرديا تھا
انہوں نے اس
اصول پر كام
كيا كہ
كائنات ميں
ايسي كوئ شۓ
نہيں ہے جسے
حيات تسخير
نہ كرسكے يا
جس كا
احتساب يا
آزماءش اس
كے امكان سے
باہر ہو
يہاں يہ بات
ملحوظ رہے
كہ عباسيہ
عہد سے دولت
عثمانيہ كے
آغاز تك سات
آٹھ سو سال
ميں
مسلمانوں
نے وہ كام
كيا جس كے بل
بوتے پر
يوروپ ميں
ايك علمي
انقلاب
نشاة ثانيہ
كي صورت ميں
نمودار ہوا
اس ويب سائٹ
ميں ان تمام
محققوں كا
تذكرہ
ناممكن
تصور كرتے
ہوۓ نمونے
كے طور پر
چند ايك كا
انتخاب كيا
گيا ہے
مختلف
سائنسدانوں
كي تحقيقات
پسش كرنے سے
قبل شروع
ميں اسلامي
سائنس كے
محركات اور
مسلم
سائنسدانوں
پر ايك
طائرانہ
نظر ڈالي گئ
ہے جس سے
سارے عالم
اسلام كے
سائنسدانوں
كے
كارناموں
كا نقشہ ذہن
ميں آجائے
گا پھر
سائنس كي
مختلف
شاخوں كے
ماہرين پر
اجمالا
روشني ڈالي
گئي ہے جيسے
الرازي طب
كے مہر منور
تھے ابن
الحيطان
علم بينائي
كے جابر بن
حيان كيميا
كے
الخوارزمي
رياضي كے
البيروني
جغرافيہ كے
الكندي
فلسفہ كے
نصير الدين
طوسي
فلكيات كے
الزہراوي
سرجري كے
الماہري
اور ابن
بطوطہ
سيروسياحت
كے
المسعودي
تاريخ كے
ابن طفيل
ادب كے اور
الماوردي
سياسيات كے
ان سب كے
كارناموں
پر ہلكاسا
جائزہ ليا
گياہے جو
بات اہم اور
ياد ركھنے
كے قابل ہے
وہ يہ كہ
اسلام ميں
علم كو اللہ
كي پاك
امانت
قرارديا
گيا ہے علم
كو سب سے
بہترين آلہ
ہدايت
انتخاب كيا
گيا ہے علم
كو اللہ كا
نور
بتاياگيا
ہے علم كو
وجود آدم سے
منسلك
كرديا گيا
ہے آدم خاكي
كو وجود ميں
لاتے ہي رب
العزت نے اس
كمو اسم
اعظم سے علم
الاسماء كا
سبق ديديا
تھا جب اس نے
اس سبق كو
بھلا ديا تو
ختم الرسل
داناۓ كل
صلي اللہ
عليہ وسلم
كے سينہ ميں
جبرئيل
امين نے
پہلي وحي جو
القاكي وہ
اقراء اور
علم بالقلم
كي تھي
اسلامي
تعليمات
ميں يہ بات
واضح كردي
گئي كہ حيات
ايك بحر
بيكراں ہے
علم اس كا
ساحل ہے
حيات كے
موجوں مين
جوش و خروش
ہے حيات كي
ہر موج علم
كے ساحل سے
جب ٹكراتي
ہے تو تخليق
كي روشني
اجاگر ہوتي
ہے ندرت
وفكر عمل كا
مقام ہاتھ
آتا ہے
تسخير
كائنات و
تعمير حيا ت
كا خيال
ابھرتا ہے
تہذيب
وتمدن كے
چراغ روش
ہوتے ہيں
ايجادات و
اختراعات
كا
بازارگرم
ہوتا ہے يہي
وہ مقام ہے
جہاں انسان
سوچتےسوچتے
ذوق
خداوندي پر
اتر آتاہے
مالك نے رات
بنائي تو
بندے نے شمع
روشن كركے
باريكي دور
كردي مالك
نے پتھر اور
ريت كي
تخليق كي تو
بندے نے
چمكتا ہوا
شيشہ و
پيالہ
بناليا
مالك نے
بياباں
وجود ميں
لاياتو
بندے نے اس
كو خياباٹ
مين بدل ديا
مالك نے
كہسار
بخشاتو
بندے نے اس
كو گلزار
كرديا مالك
نے غار بناۓ
تو بندے نے
باغ اگاديۓ
غرض علم نے
ذوق خدائ كو
اجاگر
كرديا
ہمارے
سائنسدانوں
نے يہ كرشمہ
كردكھايا
اسي كے جلوے
ہيں سارے جو
چشم بينا ہو
تمام ذرے
ہيں تارے جو
چشم بينا ہو
عروج آدم
خاكي سے
انجم
سہمےجاتے
ہيں
كہ يہ ٹوٹا
ہوا تارہ
مہءكامل بن
جاۓ |
|
|
|
![]() |