کرزئی حکومت کی ریاستی دہشتگردی
سانحہ 29مئی
عادل افغانی: (جلال آباد)
اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان حکومت ختم ہونے کے بعد یہ پہلی دفعہ ہے کہ کابل میں اس قدر زبردست امریکہ مخالف مظاہرے ہوئے۔جسمیں تقریباً130 افراد لقمہ اجل بن گئے اور سینکڑوں افراد اپنے گھروں کی بجائے جیل چلے گئے۔
بظاہر تو ایسے لگ رہا تھا کہ امریکی فوجی گاڑی کے ساتھ کسی عام افغانی کی گاڑی نے ٹکر لی ہے اور اس ٹکر کے بعد اس طرح کی خونریز صورت حال پیش آئی ہے۔ ایک معمولی ٹریفک حادثے سے آیا ممکن ہے کہ اس طرح کے خونریز واقعات جنم لیں ؟۔اس طرح کے ٹریفک حادثے تو ہر ملک میں تقریباً روزانہ ہوتے ہیں ۔لیکن اس کا انجام اس طرح نہیں ہوتا جس طرح کابل میں ہوا۔ایک معمولی حادثے نے ایسی آگ لگائی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے کابل کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔
اس حادثے کی اصل وجوہات اور ہیں ۔ٹریفک حادثہ تو صرف ایک بہانہ بن گیا۔جس طرح افغانستان میں طویل جنگوں کے بعد جب کرزئی حکومت بن گئی اور بون کے لوظ نامے پر دستخط ہوگئے اور عالمی ممالک نے وعدے کئے کہ وہ افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔وہ افغانستان سے بد امنی،دہشت گردی ،جنگ سالاری،پھاٹک سالاری ،این جی او سالاری اور پیسہ سالاری کو ختم کرے گی۔ تو افغانی پر امید ہوگئے کہ اب خیر سے ہمارے مشکلات اور جنگوں کا وقت ختم ہوگیا ہے ۔مہاجرت اور خانہ بدوشی کی زندگی ختم ہونے والی ہے۔ باقی ماندہ زندگی ہم سکون سے اپنے وطن میں گزاریں گے۔زیادہ تر افغانیوں کا یہ خیال تھا کہ وہ اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں بھر پور حصہ لیں گے۔ لیکن یہ صرف ان کی ایک خوش فہمی تھی۔
بہت افسوس کے ساتھ افغانوں کے سارے امیدوں پر پانی پھیر گیا۔جب ان کا دوبارہ اس جنگی سالارکلچر کے ساتھ سامنا ہوا۔ کرزئی نے یہ وعدہ کیا تھا ۔کہ میں ان جنگ سالاران کو ختم کروں گا۔ ان کا ختم ہونا تو ایک طرف اس نے ان کواور بھی مضبوط کیا ۔حکومت میں تمام اچھے عہدے مرکز اور صوبوں میں انہی پرانے جنگ سالاروں کے حوالے کئے گئے۔اب بندوق کے مالک کے ساتھ اقتدار کی طاقت بھی آگئی۔تو انہوں نے افغانوں کے ساتھ اس بربریت کا مظاہرہ کیا ۔جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔
جیسا کہ بون میں کرزئی حکومت بن گئی۔تو ادھر کچھ لوظ نامے بھی دستخط ہو گئے۔افغانوں نے خصوصاً کابل کے رہنے والوں نے ان لوظ ناموں پر عمل کرنے کا بڑا انتظار کیا۔وہ یہ سوچ رہے تھے۔کہ ہوسکتا ہے کہ ان لوظ ناموں کے پورا ہونے کے بعد ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی آجائے گی۔یعنی وہ تھوڑی سکون کی زندگی گزار لیں گے۔آئین بن گیا ۔صدارتی الیکشن ہوگیا ۔پارلیمنٹ بن گیا اور آخر کار کابینہ بھی بن گئی۔سب کچھ ہوگیا ۔لیکن عوام کی ساری امیدیں دریا برد ہو گئیں ۔افغانوں کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔وہ جنگ سالاران اقتدار میں آگئے جو کسی قسم کابھی تجربہ ماسوائے قتل و غارت گری کے نہیں رکھتے تھے۔جاہل اور ناتجربہ کار جرنیل،وزیر اور دوسرے حکومتی ارکان موجودہ وقت میں افغانستان کے تمام سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ ان کے من میں جو بھی آئے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ پورا کر تے ہیں ۔خواہ وہ قانونی ہو یا غیر قانونی۔
افغانی عوام میں دن بدن ان کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے اور ان کو کسی قسم کی بھی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔حکومتی اداروں میں رشوت ،چوری ،سفارشیں اور کرپشن انتہا کو پہنچ گئی ہیں۔فسادات ،لسانی تعصبات سب کی کثرت ہو گئی ہے۔
ایک عام افغانی کی تنخواہ صرف 3000 ہزار افغانی ہے ۔3000ہزار افغانیوں میں کابل میں ایک کمرے کا گھر بھی کرائے پر نہیں ملتا ۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ بے روزگاری میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ پوست کی کاشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مختصر یہ کہ افغانیوں کی ساری توقعات خاک میں مل گئی ہیں۔
یہ ٹریفک خادثہ عوام کے نفرت کے لئے ایک بہانہ بن گیا۔ اس طرح مظاہروں اور مسلح جنگوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور یہ جنگ کے شعلے افغانستان کے دوسرے شہروں کو بھی پہنچ جائیں گے۔ لیکن بد قسمتی سے افغانستان میں کو ئی بھی ایک مضبوط انقلابی پارٹی نہیں ہے کہ ایسے مظاہروں کی رہنمائی کرے۔ عوام کی اس طرح کی قربانیاں رائیگاں چلی جاتی ہیں اور اس کا فائدہ دشمن کے جیب میں چلاجاتا ہے۔جیسا کہ ماضی میں ہوا۔ قربانیاں کس نے دی ۔جنگ کس نے کیا اور فائدہ کس کو ہوا۔
25سالہ مسلسل جنگ کے دوران ایک انقلابی پارٹی نہ ہونے کی وجہ سے افغانوں کو بے شمار تکالیف اور مشکلات کا سامنا ہوا ۔اب بہت نازک ، حساس ااور باریک وقت ہے۔ افغان لیفٹ کو اور دوسرے انقلابی گروپوں کو چاہئے کہ وہ آپس میں چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ایک طرف کرکے اپنے ملک کی از سر نو تعمیر اور تقدیر میں ایک مثبت تبدیلی کے لئے عوام کی رہنمائی کرے۔
ہم اسی جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور ہمارا اس پر پورا یقین اور ایمان ہے کہ آج نہیں تو کل کرزئی رجیم اور امریکی سامراجی فوجوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑے گا ۔اگر اب بھی انقلابی قوتیں اپنا کردار صحیح طریقے سے ادانہ کریں ۔تو کل کا دن ان کے لئے بہت تاریک دن ہوگا۔
٭٭٭ایک پرولتاری پارٹی بنانے کی آرزو کے ساتھ٭٭٭
(عادل افغانی افغانستان میں افغان لیبر ریولوشنری آر گنائزیشن کے جنرل سیکرٹری ہیں)