|
Nov 21, 2005
مہاجر ہمدرد نورالدين کو اغوا کے تشدد کرکے گولی مارکر شہيد کرديا گيا
تاريخ: پير ٢١ نومبر ٢٠٠٥
نورالدين
کھوکھراپار میں مہاجر قومی موومنٹ کے ہمدرد ایک نوجوان کو اغوا کے بعد سر میں گولی مارکر قتل کردیا اور لاش کو ڈیری فارم کے قریب پھینک دیا گیا۔ مقتول کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق ڈيری فارم کے مينيجر صلاح الدين نے لاش ديکھکر پولس کو اطلاع کی۔ پولس نے موقع پر پہنچ کر لاش تحويل ميں لے کر جناح ہسپتال پہنچائی ۔مقتول کی شناخت ٢٥ سالہ نورالدين ولد محمد اکرم نام سے ہوئی ہے۔ کھوکھراپار مکان نمبر سی ون ٨/٤ میں رہائش پذیر ٢٥ سالہ نور الدین ولد اکرام دین کو عمران نامی شخص نے بلایا۔وہ اتوار کی شب رکشے میں سوار ہوکر پیٹرول پمپ پر گیا پہلے سے موجوددولڑکوں کے ہمراہ چلا گیا اس کے بعد دہشت گرد اسے اغوا کرکے ملٹری ڈیری فارم کے قریب لے گئے اور وہاں ہاتھ پشت پر باندھ کر سر پر ایک گولی ماری جو پار ہوگئی مقتول کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ ۔ پولیس کے مطابق مقتول غیر شادی شدہ تھا اور اس نے پولیس میں بھرتی کے لئے درخواست دی ہوئی تھی۔ مقتول کے ٥ بھائی ہیں۔ پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں مہاجر قومی موومنٹ کے ٩ کارکنان اور ايک ہمدرد قتل ہوچکے ہیں لیکن پولیس کسی کو گرفتار نہیں کرسکی ہے۔ شريف خان کے مطابق مقتول مہاجر قومی موومنٹ کا ہمدرد تھا اور اسے دو روز قبل اغوا کيا گيا تھا۔
|