|
Jun 20, 1991
فيصل عرف تراب الحق
تاريخ : ٢٠ جون ١٩٩١
جب اٹھارہ جون ١٩٩١ سے بيس جون تک جب لانڈھي ميدان جنگ بنا رہا سندھ بھر سے لوگوں کو جمع کر کے لانڈھي ميں بھيج ديا گيا تھا پاکستان اسٹيل کے تمام عرضي ملازمين کو اسلحہ دے کر لانڈھي ميں قتل عام کا ٹاسک ديا گيا تھا حکم عدولي پر ملازمت سے برخواست کرنے کي دہمکي دي گئي تھي پوليس افسران اپني آنکھيں اور کان بند کئے بيٹھے تھے ايسے ميں يونس بھائي جو کہ ايم پي اے تھےانہوں نے کور کمانڈر سے رابطہ کر کے ساري صورت حال بتائي اس نے وعدہ کيا کہ وہ حالات کا جائزہ لينے کے ليئے کسي افسر کو بھيجے گا اس نے يہ بھي کہا کہ ہمارا افسر چونکہ علاقے سے واقف نہيں ہے اس لئے رہنمائي کيئے کسي کو ملير بھيج ديا جائے تب يونس بھائي نے اپنے چھوٹے بھائي رشيد بھائي کو بھيج ديا يہ ٢٠ تاريخ کي صبح کي بات تھي ليکن شام تک حالات نہائت مخدوش ہوچکے تھے پورے علاقے کي بجلي بند تھي گيس کي لائينں گولياں لگنے سے پھٹ چکي تھيں جن سے شديد پريشر کے ساتھ گيس خارج ہورہي تھي زخميوں کو لے جانے کيلئے ايمبولنس تک کو اندر نہيں آنے ديا جارہا تھا ايسے ميں سب لوگوں نے متفقہ طور پر لانڈھي سے نکلنے کا فيصلہ کر ليا اس وقت لانڈھي کے عوام کا تعاون مثالي تھا لوگوں نے کس کس ڈھنگ اور بہانوں سے تمام ساتھيوں کو باہر نکالا يہ ايک الگ لمبي داستان ہے جب يہ انخلا جاري تھا ايسے ميں ارشد بھائي جو کہ کے اي ايس سي ميں ملازم اور ادارے ميں لانڈھي کورنگي کے انچارج تھے کے پاس رشيد بھائي کا فون آيا انہوں نے کہا کہ ميں ايک ميجرکے ساتھ واپس آرہا ہوں اس وقت ارشد بھائي کے گھر ميں دوسرے ساتھي بھي موجود تھے ليکن انہوں نے زيادہ تر ساتھيوں کو ہدائت کي کہ وہ لانڈھي سے چلے جائيں اس وقت زبير بھائي اپني ٹانگ ميں گولي لگنے کے سبب شديد ذخمي ہوچکے تھے ارشد بھائي نے اپني فيملي سے کہا کہ وہ لوگ اپنے ساتھ زبير بھائي کو لے کر چلے جائيں يو ں وہ اپنے گھر ميں اپنے والد کے ساتھ رہ گئے ايسے ميں شعيب کوٹي بھائي تراب الحق بھائي اور يوسف بھائي نے بھي نا جانے کا فيصلہ کيا اور کہا کہ وہ بھي يہاں رک کر رشيد بھائي کا انتظار کريں گے اس دوران انکا رابطہ ايک مرتبہ پھر فون کے زريعے رشيد بھائي سے ہوا اور انہوں نے بتايا کہ بس اب کچھ ہي دير ميں لانڈھي پہنچ جائيں گے
رشيد بھائي جب ميجر کليم کے ساتھ لانڈہي ميں داخل ہوئے تو اس وقت رات کےآ ٹھ بج رہے تھے ہر گلي ميں دہشت گرد مورچہ بند بيٹھے تھے جب ان کي گاڑي حلقہ ٨٦ ميں داخل ہوئي تو درجنوں مسلح افراد نے انہيں گھير ليا ميجر کليم نے اپنا تعارف فوج کے ايک افسر کي حيثيت سے کرايا ليکن وہاں موجود لوگوں نے ايک نہ سني اور کہا کہ تم جو کوئي بھي ہو ہمارے ساتھ ہمارے آفس ميں چلنا ہوگا اتنے ميں کسي نے ان کے چہروں پر ٹارچ کي روشني ڈالي تو بعض لوگوں نے رشيد بھائي کو پہچان ليا اس کے بعد وہ آپے سے باہر ہو گئے رشيد بھائي کو جيپ سے کھينچ کر باہر نکالا گيا اور سڑک پر گرا کر لاتيں گھونسے مارنے شروع کر ديئے ميجر کليم اور اس کے ساتھ موجود دوسرے جوانوں نے مداخلت کرنے کي کوشش کي تو انہيں بھاي زوروکوب کيا گيا واضح رہے کہ فوجيوں کا اسلح پہلے ہي چھين ليا گيا تھا اس کے بعد وہ انہيں اسي طرح مارتے ہوئے سيکٹر آفس پر لائے جہاں سليم شہزاد اور صوبائي وزير صفدر باقري موجود تھے انہيں ميجر کليم کو گالياں ديں اور اپنے لوگوں سے کہا کہ ان کو باندھ کر ڈال دو اور يونس خان کے بھائي سے پوچھو کہ باقي لوگ کہاں ہيں رشيد بھائي پر تشدد شروع کرديا گيا رشيد بھائي نے جہاں تک ممکن تھا برداشت کيا ليکن آخر ميں انہوں نے بتا ديا کہ کچھ لوگ ارشد بھائي کے گھر پر موجد ہيں اور ميرا انتظار کر رہے ہيں فورا وہاں سے درجنوں لوگوں کو روانہ کيا گيا جنہوں نے ارشد بھائي کے گھر کا دروازہ جو کہ اندر سے بند تھا توڑ ديا اوروہاں موجود فيصل بھائي جن کا گھريلو نام تراب الحق تھا
شعيب کوٹي بھائي اور يوسف بھائي اور ارشد بھائي کو پکڑ ليا اور ان کے بيمار اور ضعيف والد کو بھي ناچھوڑا ان پانچوں سيکٹر آفس لايا گيا سليم شہزاد نے انہيں اپنے استاد کے پاس پہنچانے کيلئے کہا ان دنوں قاتلون کا استاد خوف کے سبب عزيز آباد مين واقع اپني رہائش گاہ کے قريب بھي نہيں پھٹکتا تھا اور ڈيفنس کے کسي بنگلے ميں پوشيدہ تھااس نے نے فيصل بھائي اور شعيب کوٹي بھائي کا نام سنتے ہي کہا کہ انہيں ہرگز يہاں نا لائو بلکہ لائينز ايريا لے جائو اور خود فون کر کے بدنام زمانہ دہشت گرد جاويد لنگڑے کو جو کہ لائينز ايريا کا سيکٹر انچارج تھا ہدايت جاري کردي اسي رات فيصل بھائي اور شعيب بھائي کو لائينز ايريا ميں پھانسي دے کر شہيد کرديا اور الطاف کي فرمائش پر ان کي نعشيں ڈيفنس ميں اسکے بنگلے پر پہنچائي گئيں جہاں سے بعد ميں انہيں ايک چھيني گئي گاڑي ميں ڈال کر ڈيفنس ہي کے علاقے ميں چھوڑ دياگيا- اور يہ بات ہے ٢٠ جون کي رات کي-
يوسف بھائي کي شہادت کي صحيح تاريخ نہ معلوم ہوسکي کيونکہ انکي شناخت تقريبا ايک سال کے بعد ايدھي سينٹر مين موجود لاوارث لاشوں کے البم سے ہوئي تھي اور ان ہي زريعے سے ان کي تدفين کے مقام کا پتا چلا تھا ايدھي کے زرائع کے مطابق نعش کئي روزپراني اور بہت خراب حالت ميں تھي
ارشد بھائي کي نعش ٢٦ دن کے بعد ١٥ جولائي کو گارڈن کے علاقے سے ملي ان کے سر پر گولياں مار کر انہيں شہيد کيا گيا تھا افسوس ناک بات يہ ہے کہ آج تک ارشد بھائي کے والد کے بارے ميں کچھ بھي نا پتا چل سک
|