|
Jul 12, 1998
ايک ہی دن ميں چار مہاجر کارکنان شہيد کردئے گئے
تاريخ: اتوار ١٢ جولائی ١٩٩٨
ايجاز احمد
جبکہ مہاجر قومی موومنٹ کے ايک اور کارکن جوبلی کے رہائسی محمد ايجاز کی تشدد زدہ لاش گارڈن کے علاقے مرزا آدم خان روڈ پر پائی گئی ۔ شہيد ايجاز اپنے والد کے ساتھ عشا کی نماز ادا کرکے جب گھر واپس آرہے تھے تو راستے ميں انکے دوست ملے اور وہ دوستوں کے ساتھ چلے گئے جبکہ انکے والد گھر چلے گئے ۔ بعد ازا ايجاز احمد جب اپنے دوستوں کے ساتھ بيٹھے ہوئے تھے تو قاتل ٹولے کے دہشت گرد وہاں آئے اور زبردستي انکو وہاں سے اغوا کرکے لے گئے اور گولی مارکر انکی لاش مرزا آدم خان روڈ پر پھينک کر فرار ہوگئے۔
عبدالرحيم ياسين
عبدل رحيم ياسين۔ چوتھے شہيد تھے ۔ ٢١ سالہ عبدالرحيم ياسين کو برگيڈ کے علاقے ميں قاتل ٹولے نے شہيد کرديا ۔عبدالرحيم مہاجر قومی موومنٹ کے لائنز ايريا کے يونٹ نمبر ١٩٧ کے کارکن تھے اورجٹ لائن کے رہائشی تھے اور وہ جيٹ لائن ميں بيرک نمبر ٣١ کے باہر بيٹھے ہوئے تھے جب قاتل ٹولے کے دہشت گردوں نے ان پر فائرنگ کردی ، وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
محمد عارف اور محمد ذاہد
کراچی ۔۔۔ مہاجر قومی موومنٹ کے ٣ کارکنان متحدہ قاتل ٹولے نے شہيد کردئے ۔ جن ميں سے ٢ کارکنان کی لاشيں کلا کوٹ کے علاقے ميں مرگلہ سوزوکی کار نمبر ڈبليو-٩٢٣٤ ميں پائی گئيں ۔ يہ کار گلوبل پارک ميں پارک تھی۔ لاشوں کے ہاتھ باؤں بندھے ہوئے تھے اور جسم پر جا بجا تشدد کے نشانات تھے جس ميں ڈرل مشين کے سوراخ اور سگريٹ سے جلد کو داغنے کے نشانات بھی تھے۔ ان ميں سے ايک٢٦ سالہ محمد زاہد کی لاش تھی جو عيد گاہ کے علاقے ميں رہتے تھے اور کے ايم سی ميں ملازم تھے ، جبکہ دوسرے شہيد ٢٩ سالہ محمد عارف تھے جو نبی بخش تھانے کی حدود کے رہائشی تھے اور جاب تلاش کر رہے تھے ۔ ان دونوں لاشوں کے ہاتھ پاؤ موٹر سائکل کے کلچ کے تاروں سے بندھے ہوئے تھے۔
|