Home
Home
Articles News Shuhada editorial
  MQM     Forum     Facts     Overseas    

06 19, 1991

جب اٹھارہ جون ١٩٩١ سے بيس جون تک جب لانڈھي ميدان جنگ بنا رہا سندھ بھر سے لوگوں کو جمع کر کے لانڈھي ميں بھيج ديا گيا تھا پاکستان اسٹيل کے تمام عرضي ملازمين کو اسلحہ دے کر لانڈھي ميں قتل عام کا ٹاسک ديا گيا تھا حکم عدولي پر ملازمت سے برخواست کرنے کي دہمکي دي گئي تھي پوليس افسران اپني آنکھيں اور کان بند کئے بيٹھے تھے ايسے ميں يونس بھائي جو کہ ايم پي اے تھےانہوں نے کور کمانڈر سے رابطہ کر کے ساري صورت حال بتائي اس نے وعدہ کيا کہ وہ حالات کا جائزہ لينے کے ليئے کسي افسر کو بھيجے گا اس نے يہ بھي کہا کہ ہمارا افسر چونکہ علاقے سے واقف نہيں ہے اس لئے رہنمائي کيئے کسي کو ملير بھيج ديا جائے تب يونس بھائي نے اپنے چھوٹے بھائي رشيد بھائي کو بھيج ديا يہ ٢٠ تاريخ کي صبح کي بات تھي ليکن شام تک حالات نہائت مخدوش ہوچکے تھے پورے علاقے کي بجلي بند تھي گيس کي لائينں گولياں لگنے سے پھٹ چکي تھيں جن سے شديد پريشر کے ساتھ گيس خارج ہورہي تھي زخميوں کو لے جانے کيلئے ايمبولنس تک کو اندر نہيں آنے ديا جارہا تھا ايسے ميں سب لوگوں نے متفقہ طور پر لانڈھي سے نکلنے کا فيصلہ کر ليا اس وقت لانڈھي کے عوام کا تعاون مثالي تھا لوگوں نے کس کس ڈھنگ اور بہانوں سے تمام ساتھيوں کو باہر نکالا يہ ايک الگ لمبي داستان ہے جب يہ انخلا جاري تھا ايسے ميں ارشد بھائي جو کہ کے اي ايس سي ميں ملازم اور ادارے ميں لانڈھي کورنگي کے انچارج تھے کے پاس رشيد بھائي کا فون آيا انہوں نے کہا کہ ميں ايک ميجرکے ساتھ واپس آرہا ہوں اس وقت ارشد بھائي کے گھر ميں دوسرے ساتھي بھي موجود تھے ليکن انہوں نے زيادہ تر ساتھيوں کو ہدائت کي کہ وہ لانڈھي سے چلے جائيں اس وقت زبير بھائي اپني ٹانگ ميں گولي لگنے کے سبب شديد ذخمي ہوچکے تھے ارشد بھائي نے اپني فيملي سے کہا کہ وہ لوگ اپنے ساتھ زبير بھائي کو لے کر چلے جائيں يو ں وہ اپنے گھر ميں اپنے والد کے ساتھ رہ گئے ايسے ميں شعيب کوٹي بھائي تراب الحق بھائي اور يوسف بھائي نے بھي نا جانے کا فيصلہ کيا اور کہا کہ وہ بھي يہاں رک کر رشيد بھائي کا انتظار کريں گے اس دوران انکا رابطہ ايک مرتبہ پھر فون کے زريعے رشيد بھائي سے ہوا اور انہوں نے بتايا کہ بس اب کچھ ہي دير ميں لانڈھي پہنچ جائيں گے رشيد بھائي جب ميجر کليم کے ساتھ لانڈہي ميں داخل ہوئے تو اس وقت رات کےآ ٹھ بج رہے تھے ہر گلي ميں دہشت گرد مورچہ بند بيٹھے تھے جب ان کي گاڑي حلقہ ٨٦ ميں داخل ہوئي تو درجنوں مسلح افراد نے انہيں گھير ليا ميجر کليم نے اپنا تعارف فوج کے ايک افسر کي حيثيت سے کرايا ليکن وہاں موجود لوگوں نے ايک نہ سني اور کہا کہ تم جو کوئي بھي ہو ہمارے ساتھ ہمارے آفس ميں چلنا ہوگا اتنے ميں کسي نے ان کے چہروں پر ٹارچ کي روشني ڈالي تو بعض لوگوں نے رشيد بھائي کو پہچان ليا اس کے بعد وہ آپے سے باہر ہو گئے رشيد بھائي کو جيپ سے کھينچ کر باہر نکالا گيا اور سڑک پر گرا کر لاتيں گھونسے مارنے شروع کر ديئے ميجر کليم اور اس کے ساتھ موجود دوسرے جوانوں نے مداخلت کرنے کي کوشش کي تو انہيں بھاي زوروکوب کيا گيا واضح رہے کہ فوجيوں کا اسلح پہلے ہي چھين ليا گيا تھا اس کے بعد وہ انہيں اسي طرح مارتے ہوئے سيکٹر آفس پر لائے جہاں سليم شہزاد اور صوبائي وزير صفدر باقري موجود تھے انہيں ميجر کليم کو گالياں ديں اور اپنے لوگوں سے کہا کہ ان کو باندھ کر ڈال دو اور يونس خان کے بھائي سے پوچھو کہ باقي لوگ کہاں ہيں رشيد بھائي پر تشدد شروع کرديا گيا رشيد بھائي نے جہاں تک ممکن تھا برداشت کيا ليکن آخر ميں انہوں نے بتا ديا کہ کچھ لوگ ارشد بھائي کے گھر پر موجد ہيں اور ميرا انتظار کر رہے ہيں فورا وہاں سے درجنوں لوگوں کو روانہ کيا گيا جنہوں نے ارشد بھائي کے گھر کا دروازہ جو کہ اندر سے بند تھا توڑ ديا اور وہاں موجود
فيصل بھائي جن کا گھريلو نام تراب الحق تھا، شعيب کوٹي بھائي اور يوسف بھائي اور ارشد بھائي کو پکڑ ليا اور ان کے بيمار اور ضعيف والد کو بھي ناچھوڑا ان پانچوں سيکٹر آفس لايا گيا سليم شہزاد نے انہيں اپنے استاد کے پاس پہنچانے کيلئے کہا ان دنوں قاتلون کا استاد خوف کے سبب عزيز آباد مين واقع اپني رہائش گاہ کے قريب بھي نہيں پھٹکتا تھا اور ڈيفنس کے کسي بنگلے ميں پوشيدہ تھااس نے نے فيصل بھائي اور شعيب کوٹي بھائي کا نام سنتے ہي کہا کہ انہيں ہرگز يہاں نا لائو بلکہ لائينز ايريا لے جائو اور خود فون کر کے بدنام زمانہ دہشت گرد جاويد لنگڑے کو جو کہ لائينز ايريا کا سيکٹر انچارج تھا ہدايت جاري کردي اسي رات فيصل بھائي اور شعيب بھائي کو لائينز ايريا ميں پھانسي دے کر شہيد کرديا اور الطاف کي فرمائش پر ان کي نعشيں ڈيفنس ميں اسکے بنگلے پر پہنچائي گئيں جہاں سے بعد ميں انہيں ايک چھيني گئي گاڑي ميں ڈال کر ڈيفنس ہي کے علاقے ميں چھوڑ دياگيا- اور يہ بات ہے ٢٠ جون کي رات کي- يوسف بھائي کي شہادت کي صحيح تاريخ نہ معلوم ہوسکي کيونکہ انکي شناخت تقريبا ايک سال کے بعد ايدھي سينٹر مين موجود لاوارث لاشوں کے البم سے ہوئي تھي اور ان ہي زريعے سے ان کي تدفين کے مقام کا پتا چلا تھا ايدھي کے زرائع کے مطابق نعش کئي روزپراني اور بہت خراب حالت ميں تھي۔
۔ ارشد بھائي کي نعش ٢٦ دن کے بعد ١٥ جولائي کو گارڈن کے علاقے سے ملي ان کے سر پر گولياں مار کر انہيں شہيد کيا گيا تھا افسوس ناک بات يہ ہے کہ آج تک ارشد بھائي کے والد کے بارے ميں کچھ بھي نا پتا چل سکا ۔----


Mohajir Qaumi Movement
Copy rights 2003-2006 All rights reserved
Hosted by www.Geocities.ws

1