Home
Home
Articles News Shuhada editorial
  MQM     Forum     Facts     Overseas    

06 20, 2003

تاريخ: ٢٠ جون ٢٠٠٣

عمران عرف نومی اور عظيم دونوں اپنے ٢٠ ويں سال ميں تھے اور ١٧ سال کے ١٧ سال کے ارسلان کی ہاتھ پاؤں بندھی اور آنکھوں پر پٹی بندھی لاشيں برگيڈ تھانے کی حدود جٹ لين ميں ايک اسکول کے تالا لگے ہوئے ٹوائلٹ ميں پائی گئيں۔ لاشون پر جا بجا تشدد کے نشانات بھی تھے۔مندر والا اسکول کے قرب و جوار ميں رہنے والے افراد تعفن پھيلنے پر پولس کو اطلاع دي، پولس نے مندر والا اسکول جٹ لين ميں ٹوائلٹ کا تالا توڑا تو اندر مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنان عمران عرف نومی اور ارسلان اور عظيم کی ہاتھ پاؤں بندھی لاشيں مليں۔ انکی آنکھوں پر پٹياں بھی بندھی ہوئی تھيں۔

ذرائع نے بتايا کہ ٢٠ جون ٢٠٠٣ کی رات کو تينوں نوجوان جٹ لين ميں واقع حسينی امام بارگاہ کے قريب بيٹھے ہوئے تھے کہ انکو نا معلوم مسلح افراد نے اغوا کرکے نا معلوم مقام پر لے گئے تھے ، جہاں ان پر بے پناہ تشدد کيا گيا اور ڈرل مشين سے جسم ميں سوراخ کئے گئے۔ اغوا کے بعد مغويوں کے اہل خانہ نے پولس ميں رپورٹ کرانے گئے ليکن وہاں ايف آئی درج کرنے کی بجائے روزنامچہ ميں يہ بات لکھی گئي اور گمشدگی کی ايف آئی آر نہيں کاٹي گئی۔ لاشيں دريافت ہونے کے وقت ارسلان کے والد محمد بابو بھی موجود تھے، وہ غم کی شدت سے چيخ رہے تھے اور رو رہے تھے ۔


Mohajir Qaumi Movement
Copy rights 2003-2006 All rights reserved
Hosted by www.Geocities.ws

1