|
March 05, 2006
ہم توہين آميزخاکوں کے خلاف احتجاجی تحريک ميں ہر قسم کی قربانی ديں گے، مہاجر قومی موومنٹ کا ملين مارچ ميں اعلان
امریکہ مخالف نعروں اور نغموں کی گونج میں ریلی کا آغاز سہہ پہر تین بجے کے قریب بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار سے ہوا اور ریلی کے قائدین نے شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر ایک پل سے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا۔ .کراچی ميں قومی مجلس مشاورت اور متحدہ مجلس عمل کے زير اہتمام پُر امن ناموس مصطفی ۖ ملين مارچ سے سياسی جماعتوں کے ليڈروں نے خطاب اور مارچ ميں منظور کی جانے والی قراردادوں ميں تمام مسلم ممالک سے اپيل کی گئی کہ توہين آميز خاکے چھاپنے والے ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کرديں۔ مہاجر قومی موومنٹ کے سہيل انجم نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاجر قوم سميت پوری امت مسلمہ اپنے احتجاج کے ذريعے توہين آميز خاکوں کی سرپرستی کرنے والے ممالک اور انکے حمائتی مسلم ممالک کے حکمرانوں کے خلاف متحد ہو چکی ہے اور ہم احتجاجی تحريک ميں قائدين کے ساتھ ہيں اور ہر طرح کی قربانی ديں گے۔ متحدہ مجلس عمل کے سيکريٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کفر سے مقابلے کے لئے اتحاد سے بڑا کوئی ہتھيار نہيں ہے، اپوزيشن قوم کی عزت نفس بچانے کيلئے ميدان ميں آگئی ، مجلس عمل کے مرکزی رہنما لياقت بلوچ نے کہا کہ حکمران ہماری تحريک کو سياست کہتے ہيں ليکن ہماری تحريک مزہبی، عقيدے اور عشق رسول کی تحريک ہے۔ مقرين ميں مجلس عمل اور اے آر ڈی سميت متحدہ اپوزيشن کے رہنماؤں نے خطاب کيا اور يورپی ممالک ميں توہين آميز خاکوں کی اشاعت اور توہين رسالتۖ پر حکومت پاکستان کی بے حسی کی مزمت کی۔ تحريک تحفظ ناموس مصطفی ۖ ريلی ميں کئی ہزار خواتين اور بچوں نے سميت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ مارچ ميں شہر کے مختلف علاقوں سے قافلے مرکزی جلوس ميں شرکت کے لئے نورانی چورنگی يا گرومندر پہنچے تھے جہاں مرکزی جلوس ايم اے جناح روڈ پر روانہ ہوا اور تبت سينٹر کے قريب جلسہ ہوا۔ مقررين ميں مہاجر قومی موومنٹ کے سہيل انجم ايڈووکيٹ ، ايم ايم اے کے مرکزی صدر قاضی حسين احمد، سيکريٹری جنرل مولانا فضل الرحمن ، صاحبزادہ علامہ انس نورانی، پروفيسر ساجد مير، لياقت بلوچ ، سيد منور حسن، حافظ حسين، ممنون حسين، مولانا عبدالرحمن مکی، امين خٹک، مولانا يوسف قصوري، زبير خان، بشارت مرزا، راشد ربانی، ابتسام الہی ظہير اور ديگر شامل تھے، مقرين نے صدر بش کے دورہ پاکستان پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو حکمرانوں پکڑ پکڑ کے امريکہ کے حوالے کيا مگر امريکہ نے بھارت کو ترجيح دی۔ اس موقع پر متعدد قرارداديں بھی منظور کی گئيں جس ميں سے ايک ميں بلوچستان اور وزيرستان ميں جاری آپريشن بند کرنے کا مطالبا کيا گيا۔ بشارت مرزا نے کہا کہ آج عوام نے حکومت پر عدم اعتماد کرديا ہے۔ امين خٹک نے کہا کہ کراچی سے خيبر تک عوام متحد ہيں۔ زبير خان نے کہا کہ ہم ايم ايم اے اور اے آرڈی کے شکر گزار ہيں کہ وہ ناموس رسول ۖ جيسے حساس مسلے پر متحد ہيں۔
|