|
February 15, 2006
توہين رسالت دراصل مغرب کا اعتراف شکست ہے ۔۔ اوورسيز کميٹی ۔ کينيڈا يونٹ
مہاجر قومی موومنٹ کی اوور سيز کميٹمی کے کينيڈا يونٹ کی طرف سے جاری کئے گئے ايک بيان ميں کہا گيا ہے کہ توہين رسالتۖ دراصل موجودہ صليبی جنگوں ميں مغرب کا اعتراف شکست ہے ۔ مسلمانوں کی جہادی اور مدافعتی قوت کے سامنے
دنيا کی سپرپاور سوويت روس اور اب دنيا کی واحد سپر پاور امريکہ کی مسلمانوں کے ہاتھوں ذلت آميز شکست انہيں ہضم نہيں ہو رہی ہے۔
اس لئے وہ گھٹيا حرکتوں پر اتر آئے ہيں۔
توہيں رسالتۖ اسلام کے خلاف پھيلائے گئی مغرب کی فکر کا نتيجہ ہے۔ جسکی سربراہی امريکہ کے صدر جارج ڈبليو بش اور برطانيہ کے
وزير اعظم ٹونی بليئر نے سنبھالی ہوئی ہے۔ آزادئ اظہار کی آڑ ميں شر انگيزی در اصل بش کی سربراہی ميں
مسلمان ملکوں کے خلاف انکی صليبی جنگ ميں ناکامی کا مظہر ہے۔ عراق ميں جب مغربی طاقتوں کو شکست ہورہی ہے اور وہ وہاں سے
بھاگنا چاہتی ہے ليکن بھاگ نہيں پا رہی ہے تو مغربی ميڈيا نے ہماری مقدس ہستيوں کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی ہےاور اسکو اظہار آزادی کا نام ديا ہے۔
بيان ميں مزيد کہا گيا ہے کہ اب مغرب کی اسی اظہار آزادی کا امتحان لينے کے لئے ایران کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے
اخبار ہمشاہری نے سوال اٹھایا ہے کہ : ’کیا مغرب کی اظہارِ آزادی کی وسعت ہالو کاسٹ تک بھی ہے یا پھر آزادی کا یہ اظہار آسمانی مذاہب کی بے حرمتی تک محدود ہے۔ اس صورت حال کےبعد
‘ اخبار نے ایسے کارٹون شائع کرنے کی بات بھی کی ہے جن میں امریکہ اور اسرائیل کے ’جرائم اور لوٹ مار‘ کا نقش بھی ہو۔
ہالوکاسٹ پر جوابی کارٹون مہم کے اعلان کے بعد ڈنمارک کے اس اخبار کے مدير کو جسنے اس مہم کا آغاز کيا تھا اخبار کی انتظاميہ نے
برطرف کرديا ہے ، فرانس کے صدر نے اسلام کے خلاف شر انگيزی کی مذمت کردی ہے اور يہ سلسلہ بش تک پہنچ گيا ہے
کيونکہ اس طرح ہالوکاسٹ کی حقيقت بھی دنيا کے سامنے آنا
شروع ہوجائے گی اور يہوديوں کے سرپرستوں کو يہ قبول نہيں ہے۔ ايرانی اخبار نے اظہار آزادی کا جواب اسی طريقے سے
ديکر مغرب کو پيچھے ہٹنے پر مجبور کرديا ہے اور اس محاز پر بھی صليبيوں کو شکست کا منہ ديکھنا پڑرہاہے۔
اوور سيزکميٹی کينيڈا يونٹ نے قوم اور حکمرانوں کو ياد دلايا ہے کہ قائد مہاجر آفاق احمد نے جس وقت امت مسلمہ کی ترجمانی کرتے ہوئے حکمران وقت کو مشورہ ديا تھا کہ
مسلمانوں کے خلاف مغرب کے حملوں ميں انکا ساتھ نہيں ديا جائے کيوں کہ ہم وہ امت ہيں جو پيٹ پر پتھر باندھ کر بھوکے پياسے رہ کر بھی دشمن کو ناکو چنے
چبا سکتے ہيں اور وقت نے ثابت کرديا ہے کہ قائد مہاجر چيئرمين کی دور بين نگاہوں نے ديکھ ليا تھا کہ روس کی طرح
امريکہ کو بھی مسلمانوں کے ہاتھوں شکست ہوگی۔ اب تو صدر پاکستان جنہونے اس وقت امريکہ کے حملے کے ڈرسے
مسلمانوں پر حملوں پر اسکا ساتھ ديا تھا بھی يہ بيانات دينے پر مجبور ہوگئے ہيں کہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگيزی
بند کی جائے ، ہمارا اپنا خيال ہے کہ صدر جنرل پرويز مشرف نے جس طرح نام نہاد دہشت گردی کےنام پر مسلمانوں کے خلاف
غلط طريقے سے ساتھ ديا ہے، اسی سے مغرب کو مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کا موقع مل رہا ہے۔
ليکن اگر صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اسکو بھولا نہيں کہتے اسی لئے صدر مملکت سے ہماری اپيل ہے
کہ وہ اپنی خارجہ اور داخلہ پاليسيوں پر نظر ثانی کريں اور ملک کے اندر سے وہ قوتيں جو امت مسلمہ کے لئے ہمدردی رکھتی ہيں انکی طاقت کو وہ پاکستان کی طاقت بناکر
خارجی معاملات کو امت مسلمہ کے نقطہ نظر سے ديکھيں۔ اسکے علاوہ ملک ميں سياسی جماعتوں کو مکمل سياسی آزادی ديکر وہ سياسی قوتوں کی طاقت کو بھی
پاکستان کی طاقت بنا سکتے ہيں
|