(1)
[ جناب مخمور سعیدی کے ایک خط سے اقتباس]
۔۔۔ نے آپ کے مجموعۂ کلام کا مسودہ مجھے دیکھنے کو دیا تھا اور کہا تھا کہ میں اس پر ایک ناقدانہ نظر ڈالوں، مگر میں نے جب اس کا مطالعہ شروع کیا تو مجھ پر ایک ایسا کیف طاری ہوا جس میں میں کھو کر رہ گیا۔ لفظ اور معنی دونوں کی سطح پر آپ کے ہاں جو تازگی ہے وہ آج کل کی شاعری میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے، اور اس کا سر چشمہ آپ کے جودت طبع کے علاوہ وہ ذہنی پس منظر بھی ہے جس کی تشکیل میں اپنی سسر زمین، اس کی روایات اور اس کے موجودہ حالات سے آپ کی چذباتی وابستگی ضاف محسوس کی جا سکتی ہے
مخمور سعیدی (کم مارچ 2005 )
***
(2)
سازِ سلاسل پر تبصرہ (اقتباس) از جناب عبیدالرحمان - (رسالہ ادبی دنیا،نٸی دہلی، مٸی (2006)
مظفّر عازم کا شمار ایسی شخصیتوں میں ہوتا ہے جنھوں نے کٸی زبانوں کے حوالے سے اپنی شناخت قاٸم کی ہے۔۔۔۔ ان کا آباٸی وطن کشمیر ہے اور انھوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ وہیں گزارا ہے اور وہاں گزارے ہوٸے دنوں کی یادیں آج بھی ان کی ہمسفر ہیں۔
بہار خو ہے خزاں میں چنار سایہ مرا سکوں نواز سہارا ہے زندگانی کا
نہ پوچھ کس کے لیے ہیں یہ لفظ متروکات نشاطِ سیرِ چمن، جھیلِ ڈل کی رعناٸی
ایک غزل میں اس جنت نشان وادی کے گذشتہ دنوں کی کہانی یوں بیان کی ہے۔
کہتے ہیں کہیں اک بستی تھی، وہاں چاند ستاروں کے گھر تھے
نیلی جھیلوں میں امرت تھا اور امرت میں نیلوفر تھے
سب سروِ روان سر دھنتے تھے ہر موج ہوا کی شوخی پر
سنبل کہ زلیخا کی زلفیں شمشاد کہ یوسف پیکر تھے
اس غزل کا شعر ایک حساس دل کو تڑپادیتا ہے اور کسک بن کر اس کی رگ و پے میں اتر جاتا ہے۔ ۔۔۔ مجموعے کے آغاز میں مخمور سعیدی کا مضمون شامل ہے جس سے مظفّر عازم کی شاعری کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے مگر شاعر کی باطنی دنیا تک رساٸی اور اس کی شاعرانہ شخصیت کی صحیح شناخت کے لیے اس کے اشعار سے براہ راست رابطہ ضروری ہے جن میں تہ در تہ معنی و مفہوم کی ایک دنیا آباد ہے۔ اس دنیا سے گذرتے ہوٸے قاری محسوس کرے گا کہ وہ شاعری کی ایک انتہاٸی خوبصورت اور با معنی فضا کی سیر کررہا ہے۔ شعری مجموعوں کی بھیڑ میں ایسے مجموعے بہت ہی کم دستیاب ہیں جو خود کو پڑھوا لیے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور جنہیں جتنی بار پڑھا جاٸے شاعری کی پرتیں کھلتی جاٸیں گی۔ ''سازِ سلاسل'' ایسا ہی ایک مجموعہ ہے جو قاری کو اپنا گرویدہ بنالیتا ہے۔
کتاب کے آخر میں شاعر کی چند کشمیری نظموں کے منظوم تراجم شامل ہیں۔ ترجمہ چونکہ شاعر نے خود کیا ہے اس لیے اس پر ترجمے کا گماں نہیں گزرتا۔ ان کے علاوہ فارسی کی دو در غزلیں بھی شامل ہیں جو اس زبان پر شاعر کی گرفت اور قدرت کلام کا پتہ دیتی ہیں.
(3)
مظفّر عازم: کھلی آنکھوں اور کھلے ذہن کا شاعر
- مخمور سعیدی -
جناب مظفر عازم کی شاعری کو وادیِ کشمیر کی آواز سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، ان کی غزلیں ہوں یا نظمیں، انھیں پڑھ کر اسی تازگی کا احساس ہوتا ہے جو اس جنت نشان وادی کی فضاؤں کا خاصہ ہے۔ ان کا لہجہ روایتی عناصر سے گراں بار نہیں اور اظہار و بیان کی وہ رسمیات جو بالعموم شعر کو بوجھل بنادیتی ہیں، ان سب سے عازم صاحب نے غالباً شعوری طور پر اجتناب برتا ہے۔
جناب مظفر عازم کے موضوعات سخن بھی نٸے ہیں جو انہوں نے اپنے گرد و پیش کی زندگی سے اٹھاٸے ہیں جو انفرادی بھی ہیں اور اجتماعی بھی۔ انھوں ن ےاپنے چاروں طرف پھیلے ہوٸے سانس لیتے ہوٸے معاملات و مساٸل کو کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے اور کھلے دل اور کھلے دماغ سے انھیں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کوشش میں وہ پوری طرح کامیاب نظر آتے ہیں۔
اپنی سر زمین سے محبت آدمی کا فطری جذبہ ہے۔ مظفر عازم بھی اپنی شاعری میں اس جذبے سے سرشار نظر آتے ہیں لیکن اس سرشاری میں ہوشیاری بھی ہے۔ وادی ھ کشمیر کے خوش نما مناظر، پہاڑوں کی برف پوش چوٹیاں،چناروں اور دیوداروں کے بلند قامت درختوں کی سرخ و سبز قطاریں، ندیوں کی روانی، اور چشوں کا خوش آہنگ ترنم اور ڈل میں ڈولتے آہستہ خرام بوٹ ہاؤس اور تیز رو کشتیاں — سلیقے سے سجی ہوٸی تصویروں کی طرح مظفر عازم کے شعری نگارخانے کی زینت ہیں، لیکن ان تصویروں کو دھندلا کردینے والے، ان کے حسن کو ماند بلکہ ملیامیٹ کردینے کی کی خواہش رکھنے والے کج اندیشوں کی کارگزاریوں سے بھی وہ بے خبر نہیں ہیں، اور ان پر ان کی تشویش اس مجوعے میں شامل نظموں اور غزلوں میں ایک زیریں لہر کی طرح رواں دواں صاف دیکھی جا سکتی ہے اور اس کی شدت کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ لیکن قابل قدر بات یہ ہے کہ اکثر موقعوں پر ان کا رد عمل منفی نہیں ہے اور وہ حالات میں بہتری آنے کے امکان کو مسترد نہیں کرتے:
رات کی تیرہ نصیبی میں درخشندہ رہا راکھ کے ڈھیر میں یہ شوخ شرارہ کیا ہے
گملے میں جو پیاسی سوسن ہے بیچاری زباں لٹکاٸے ہے اور نرگس کی گن آنکھوں میں مبہوت سا ارماں رہتا ہے
دریچے بند تھے اک بھوت گھر کے کھلے آنگن میں پر بستہ ہوا تھی
خواب کے شہر میں یۂ ابر بہاراں تھا آنکھ کھلی تو سارا منظر ٹوٹ گیا
پھر وادی سے گولی کی آواز آٸی پھر میرے شاہیں کا شہپر ٹوٹ گیا
یہ پر ٹوٹا شاہیں آج بھی ان کا ہمسفر ہے اور وادی میں گونجنے والی گولی کی آواز ان کا تعاقب کر رہی ہے۔
مظفر عازم برسوں سے اپنے وطن مالوف سے دور، دنیا کے خوشحال ترین خطّے میں مقیم ہیں۔ یہ کہنے کی شاید ضرورت نہیں کہ اپنی سر زمیں سے یہ دوری انھوں نے بہتر وساٸلِ معاش کی خاطر گوارا کی ہوگی، اس مقصد میں انہیں کامیابی بھی ملی اور زندگی کی آساٸشیں ان کا مقدر بنیں لیکن اجنبی دیاروں کی نامانوس فضاؤں میں شاید وہ ذہنی آسودگی حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ جویا تھے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ آسودگی کی جگہ نا آسودگی ہاتھ لگی۔ مظفر عازم کے شعری کینواس پر یہ رنگ بھی خاصا نمایاں ہے:
ہواؤں کے پاؤں میں زنحیر تھی صدا کے سلیقے گرفتار تھے
پیلے پتوں نے ھوش طوفاں پر مجھ کو میرا پتا بتایا ہے
پاٸے مجروح و سایۂ دیوار کچھ ہمارا ہے، کچھ پرایا ہے
پھڑکتا پرندہ فضاؤں میں ہے بڑھاپا لڑکپن کے گاؤں میں ہے
صبا تو نیند اڑا کر چلی گٸی ہوگی گلاب شاخ شاخِ ستم پر ہی دوپہر دیکھے
نیند اڑاکر چلی جانے والی صبا کے آوارہ خرام جھونکے کدھر سے آٸے اور کدھر چلے گٸے، شاعر ہمیں یہ اطلاع نہیں دیتا لیکن گلاب کو یہ مشورہ دے کر کہ وہ دوپہر کا نظارہ شاخِ ستم پر ہی رہ کر کرے، وہ گلاب کو خود اپنی ذات کا استعارہ بنا دیتا ہے۔
مظفر عازم چند موضوعات کے اسیر ہوں، ایسا نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں ہی کہا ہے، ان کی شاعری میں زندگی اپنی تمامتر جلوہ سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ رنج و راحت، غم و نشاط، درد و درماں، غرض زندگی سے تا بہ مرگ انسان جن مراحل سے گزرتا ہے، مظفر عازم کی ان سبھی پر نظر ہے اور ان مراحل سے گزرتے ہوٸے جو گوناگوں کیفیات انسانی وجود پر طاری ہوتی ہیں، ان کی نظموں اور غزلوں میں ان سب کی عکاسی دیکھی جا سکتی ہے۔
مظفر صاحب کی زبان قدرے فارسی آمیز ہے لیکن ان کی بعض غزلیں اس زبان میں ہیں جسے ہم ہندی آمیز بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک غزل کے یہ چند شعر دیکھیے:
ہریالی اور نیل گگن ناچ مرے متوالے من
نیل آکاش میں کویلیا لہری، من موجی، برہن
پھولوں کو چھب دکھلاتی تتلی پھلواری میں مگن
یہ “غم سے آزاد غزل“ انہوں نے “امریکہ کے نام ارپن“ کی ہے جہاں کی کھلی فضاؤں میں وہ اب داد سخن دے رہے ہیں۔
اس کتاب کے آخر میں عازم صاحب نے کچھ کشمیری نظموں کے تراجم بھی شامل کیے ہیں جو اپنا ایک الگ ہی ذاٸقہ رکھتے ہیں۔ کشمیری ان کی مادری زبان ہے اور اردو مادری زبان ہی کی طرح عزیز کہ انھوں نے اپنی شاعرانہ شخصیت کے اظہار کا حوالہ اس زبان کو بھی بنایا ہے، لیکن انہیں فارسی زبان سے بھی شغف ہے اور وہ گاہ بہ گاہ اس میں بھی فکر سخن کرتے رہے ہیں۔ سب سے آخر میں دو فارسی غزلوں کی شمولیت ان کے اسی شغف کو ظاہر کرتی ہے۔
مظفر عازم کھلی آنکھوں اور کھلے ذہن کے شاعر ہیں۔ ان کے مشاہدات جب شعری پیکر اختیار کرتے ہیں تو ایسی شاعری وجود میں اآتی ہے جس کے مطالعہ سے ہم اپنے دور و نزدیک کی دنیا کو خود سے باتیں کرتا ہوا پاتے ہیں۔
[ساز سلاسل کے دیباچہ سے اقتباس (2005)]
(4)
سازِ سلاسل : چند امتیازی پہلو
- جناب مظفّر ایرج -
۔۔۔ تخلیق کی شناخت انعام و اکرام کی مرہون نہیں ہوتی کیونکہ ادب محض تفنن طبع کا ذریعہ نہیں، زندگی کرنے کا ہنر بن چکا ہے۔ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ کرۂ ارض سے کرۂ سماوات تک سفر کرتے ہوٸے، عناصر و عوامل کا احاطہ کرتے ہوٸے زندگی کی ان حقیقتوں کی نہ صرف نشاندہی کرتا ہے جو ہمارے اندر اور ہمارے باہر مرجود ہیں، بلکہ ان سے آنکھ ملانے کی بھی ہم میں لگن پیدا کرتا ہے:
بس اپے آبلۂ پا کی آبرو رکھ لے جنونِ شوق نہ منزل نہ رہگز ردیکھے
کیا بتاؤں مرے پڑوسی تھے اپنے گھر کو جلانے والے لوگ
وہ پیڑ اپنی خزاں کو سلام کرتا ہے جو برگ زرد کی آغوش میں ثمر دیکھے
برباد تگاپو میں، چمن گشت کی خو میں برتاؤ ہواؤں سے حریفانہ رہا ہے
وہ گوشہ کہاں ہاٸے جہاں پھیل کے بیٹھیں اس کون و مکاں میں تو گزارا نہ ہوا ہے
جب تخلیق کار کے خیال کی پرواز اتنی وسیع ہوجاتی ہے کہ اس کو کون و مکان کا پھیلاؤ تنگ نظر آنے لگے تو اس کے فن میں تعقید لفظی یا معنوی یا یوں کہیے بیان میں روانی کی کمی بلکہ ٹھہراؤ آٸے تو اسے انتہاٸی دشوار گزار راہوں سے گزرنا پڑتا ہے، کیونکہ نفسِ مضمون کی قربانی کا مسٸلہ سامنے آتا ہے۔ جب ایسا وقت شاعر پر آپڑے تو قدرتی بات ہے کہ ثقیل اور غیر مانوس الفاظ کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے سلاست اور روانی بلکہ اسلوب تک متاثر ہوٸے بغیر نہیں رہ سکتے۔ لیکن عازم اس مقام سے اس طرح گزرے ہیں جیسے مکھن میں سے چاقو:
اک سفر کی منزل ہے اس سے دو قدم آگے جس مقام تک آکر پر کسی کے جلتے ہیں
کریدتا نہ قلم زخم دل اگر عازم کلام زدر زباں کا کہاں ہرہ ہوتا
پھول کا زخم چاٹتی تتلی سینۂ غنچہ میں سنان ہے آج
کنویں کی کوکھ میں پتھر پہ لیٹی صدا گونگی تھی لب نا آشنا تھی
کسے معلوم کہ وہ آک ہے یا ابر کرم لوگ اس بات پہ خوش ہیں کہ ادھر آٸے گا
یوں تو شاعری میں پہلے ہی سے رد و قبول کا عمل جاری ہے لیکن ادھر لگ بھگ پچھلی آدھی صدی کے دوران اس میں جو عملی تجربے کیے گٸے ہیں انہوں نے شاعری کی پوری کاٸنات ہی بدل ڈالی ہے اور ایسا گنچ گراں مایہ ہمیں بہم پہنچایا ہے کہ ہر تخلیق کار اپنی بساط بھر تخلیقات کے توسط سے اپنی سرخروٸی کہ دعا کر سکتا ہے کہ اسے ذات کا ادراک، وجود کا عرفان بلکہ اس سے ہمکلامی کا سرا ملا ہے۔عازم کی شاعری بھی ذات، وجود اور ''میں'' سے راست گفتگو کے خزانے اپنے اندر سیٹے ہوٸے ہے:
کلاٸی نے پوروں کو مس کرلیا دھڑکتا کھلونا بلاؤں میں ہے
پکھلتی برف کے دن ہیں خدا کرے عازمؔ شگفت گل میں تری آہ کا اثر دیکھے
پھڑکتا پرندہ فضاؤں میں ہے بڑھاپا لڑکپن کے گاؤں میں ہے
وہ دیپ آج بھی پاگل ہوا سے لڑتا ہے کہ جس کی جوت پہ سورج کی روشنی ہو نثار
ہم گدا گر ہیں، پر نہیں اس کے اسم جس کا کلید باب نہیں
صلیب: سرو خراماں، گلے کی پھانس: فغان تمہارا گھر ہے ہمارا غریب خانہ صبا
منارے رہے ہیں ہم اس طرح اپنی عمر رواں جھکی کمر کو ہلال شباب لکھتے ہیں
عکس کا شکاری ہوں آٸینے بناتا ہوں فطرت خلیلی میں سلسلہ ہے آذر کا
ساحل آپہنچا سمندر ساکن ہے اب تو بیڑا پار ہے، اب کھو جاٸیں گے
شاعر کی نظر بہت ایسے مظاہر اور حقاٸق کا احاطہ کرتی ہے جو فلسفی کی بالغ نظری کی زد میں نہیں آتے، کیونکہ شاعر حشک اور خنک فلسفیانہ مو شگافیوں کے نتاٸج سے زیادہ مظاہر و حقاٸق کو مرکز خیال سمجھ کر اپنی منزل کا تعین کرتا ہے اور ایک ایسے عالم کی خبر لاتا ہے جہاں تک فلسفی کی رساٸی ممکن نہیں۔ یہ بات اپنی جگہ کہ شاعری فلسفے سے زیادہ دور نہیں۔ عازم نے فلسفے کو بھی شعر میں کامیابی سے بیان کیا ہے:
میرے قدموں کی خاک خوش آٹار کن ستاروں کے انتظار میں ہے
داٸرہ داٸرہ ہے جبر حیات بادل آٸیں گے جو گیا دریا
کامیاب یا اچھی شاعری میں اصطلاحیں، تراکیب اور استعاروں کا استعمال اہم ہے۔ عازم کی شاعری میں جگہ جگہ ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ ''قوسی تراکیب'' کا بڑی چابکدستی سے استعمال ہوا ہے جس سے عازم کے کلام کو ایک نیا افق دستیاب ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عازم کا کلام اکہرے پن یا یکرنگی یا یکسانیت کے الزام سے خود کو بچا لے جاتا ہے:
شہر آہن میں جھلستی ہے مری خواب پری کسی پاتال کے چشمے میں نہا آٸے گی
خواب وادی کے خریدار کو تڑپاٸے گی
خواب نگر کا سایۂ ابر بہاراں تھا
سوچ صدف میں سایۂ ابر بہاراں تھا
اور، گل آنکھوں، سنگ الفاظ، نمک نمک بوندیں وغیرہ
مظفّر ایرج سرینگر 8 مٸی 2003
کہتے ہیں کہیں اک بستی تھی، وہاں چاند ستاروں کے گھر تھے
نیلی جھیلوں میں امرت تھا اور امرت میں نیلوفر تھے
سب سروِ روان سر دھنتے تھے ہر موج ہوا کی شوخی پر
سنبل کہ زلیخا کی زلفیں شمشاد کہ یوسف پیکر تھے
پھر رُت بدلی، اس بستی کے کھیتوں میں کانٹے اگ آئے
تب سحر زدہ بستی والے سب ان کانٹوں پہ نچھاور تھے
پھر داؤ پہ تھے کیا کاسۂ سر کیا مال و متاعِ قلب و جگر
کچھ ان کانٹوں کے مالی تھے کچھ ان کانٹوں کی زد پر تھے
پھر ہر پگڑی پر پاؤں تھا ہر منہ کا مقدر تالا تھا
پھر ہر حلقوم پہ جونکیں تھیں اور ٹوٹے بکھرے شہپر تھے
ان ٹیڑھی سیدھی راہوں پر بے راہ ہجوم آوارہ تھا
جو روپ سے رہبر صورت تھے، سرگشتوں کے سوداگر تھے
بازو سر سے صف آرا تھے، جان اور جگر میں ان بن تھی
سب باسی بونے سائے تھے اور سایوں کی گردن پر تھے
اس جھیل میں جو بھی مچھلی تھی وہ کانٹا کانٹا کہتی تھی
اس شاخ پہ جو بھی طائر تھے وہ راحتِ دام کے خوگر تھے
جو داد طلب وہ زنجیری جو عالم سو ہُو کا عالم
اک مقتل محشر ساماں تھا اک گم صم داورِ محشر تھے
ہر روپ میں غم فریادی تھا ارباب وفا کی محفل میں
کیا عازمؔ تھے کیا آہیں تھیں کیا نالے تھے کیا نشتر تھے
*~*~* *~*~* *~*~* *~*~* *~*~* *~*~*
یاں دن کو دھواں چھا جاتا ہے اور شب کو چراغاں رہتا ہے
چھت پر جو کبوتر بیٹھا ہے، دن رات پریشاں رہتا ہے
اونچی اونچی دیواروں کے سائے سایوں کو نگلتے ہیں
بد روحوں کی بستی نہ کہو یاں حضرتِ انساں رہتا ہے
چمنی اس شہر کی زینت ہے، کیا اکڑی اکڑی صورت ہے
اندر سے یہ کالک کالک ہے، بیروں ہے کہ تاباں رہتا ہے
آسیب زدہ ناگن، یہ سڑک، اک بھاگم بھاگ کی ماری ہے
دُم چوک میں باندھے رہتی ہے، منہ سوئے بیاباں رہتا ہے
گملے میں جو پیاسی سوسن ہے، بیچاری زباں لٹکائے ہے
اور نرگس کی گل آنکھوں میں مبہوت سا ارماں رہتا ہے
ان اونچے ببولوں کے جھنڈ میں ہشیارِ زماں کی کوٹھی ہے
اور بام پہ ورطۂ حیرت میں اللہ کا شیطاں رہتا ہے
یہ رات کی نیند کی ٹکیاں ہیں، وہ خوابِ ابد کی سُوئی ہے
اس بیگ میں سیٹھ کے ساتھ سبھی جینے کا ساماں رہتا ہے
تب چپکے چپکے آتا تھا راجا کے محل میں رہتا تھا
اب قہرِ الٰہی آتا ہے، جمہور کا مہماں رہتا ہے
جو بھیڑ میں گھل مل جائے گا، وہ جان کی خیر منائے گا
جس سر میں سودا ہوتا ہے، وہ سر بگریباں رہتا ہے
وہ سایۂ زلف کا ساجن ہے، وہ شہر آشوب کا شاعر ہے
عازمؔ ہے کہ رنگ بدلتا ہے، پتھر ہے کہ یکساں رہتا ہے
|
|
|