Urdu e-zine, a periodical Internet publication in Urdu language                   

 

URDU E-ZINE   اردو اي زين

This is an experimental effort to issue an e-zine in Urdu language. To compose the text in Urdu, WindowsXP feature of writing Urdu in Unicode is used. The FONT FACE for Urdu text is set as "Urdu Naskh Asiatype,Tahoma". Urdu Naskh Asiatype is available for free download from  Core IT Education Centre, while Tahoma font is most probably already in your font folder.

This page can only be viewed in "Internet explorer 5+" browsers on Windows PCs which have the correct Unicode Font installed on them.


URDU E-ZINE

OCT. 2003
    Volume 1
    issue 0

Editor: 
         Majid Kabir

email:
[email protected]


All of you who love to use the feature of writing Urdu using Unicode fonts in  WindowsXP, 2000 etc. and want to participate in this effort are most welcome. 


This is a nulti issue, just a try to set a design for the page. The first issue may have different look.


There are quite a few Urdu pages, most of them offer poetry. Urdu poetry is a great thing and I enjoy and love it , but to publish another only poetry page does not make much difference. So, in this page I am thinking about  including also:

  •  translation of European literature.
  • Short technical articles, problems faced in translating technical text, etc.
  • Selected great pieces of prose and poetry.
An  e-zine is supposed to be delivered in readers email's inbox. It is the best way also if one is using a free web-hosting with limited bandwidth at disposal. 

Anyhow, the problem attached with Unicode Urdu font is that it can be read only in Internet Explorer 5+. That means that only those of you who opens your web-mail in internet explorers will be able to read it.  So, if you can't get it proper in your inbox then you will get it at my website. Just send me a note and I will give you the link.

 

آداب عرض ہے 

یہ ای مراسلہ اردو زبان میں ای رسالے نکالنے کی ایک کوشش ہے ۔ اس کوشش کی کامیابی مکمل طور پر آپ اورصرف آپ کے طعاون پر منحصر ہے۔ اس ای مراسلے کو خود بھی پڑھئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بھی فارورڈ کیجئے۔ اللہ آپ کو جزا عطا کرے۔

 

کلک کریں اور آخرت آپکی۔اگر ہر شخص ایسی ای میل کی ہدایت پر عمل کرے تو دس گھنٹے کے اندر اندردنیا کا ہر فرد اس ای میل کوکئي باراپنے میل بکس میں پا چکا ہوگا۔دنیا کے اور بہت سے لوگوں کی طرح میں بھی دھمکیوں اور ڈر و خوف دلانے پر بھی ایسے خطوط اور ای میل فارورڈ نہیں کرتا۔ ہاں اگر میری نظر سے کوئی قابل ستائش مضمون، لطیفہ، ایزین، ویب سائٹ وغیرہ گزرتی ہے تو میں اپنے کرم فرماؤں کو جو ایسے مواد سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں ضرورفارورڈ کرتا ہوں۔

اگر آپ اس ای زین کو اپنے کسی دوست یاعزیز کو فارورڈ کرنا چاہیں تو شوق سے کی جئے، بلکہ ضرور کیجئے، مگر اتنی التماس ہے کہ پورے کا پورا جوں کا توں فارورڈ کریں۔ ایسا کرنے پر نہ آپ پر قسمت کے دروازے کھلیں گے نہ ایسا نہ کرنے پر بند ہوں گے۔ اللہ تعالی بے شک بہت عظیم اور بے نیاز ہے۔

یہ مراسلہ ایک کم لاگت کی محدود ویب ہوسٹنگ پر کر رہا ہوں ۔اس کی اشاعت سے کسی قسم کی آمدنی کافی الحال نہ کوئی منصوبہ ہے نہ کوئی توقع ہے ۔ اس وجہ سے آپ سب کے تعاون کا امیدوار ہوں۔

آپ کے مشوروں اور رائے کا منتظر

ماجد کبیر

دنیا کی دکھوں اور مصیبتوں سے بھری زندگی میں جہاں بے شک اکثر تکلیفات انسان کی اپنی کوتاہیوں، ہوس اور غلطیوں کا نتیجہ ہیں، جنت کا تصور ہی دنیاوی دوزخ میں زندگی آسان یا قابل برداشت بناتا ہے۔ اس جنت تک رسائی کے راستہ اور طریقہ سفر کا تعین آفاقی کتابوں میں اللہ تعالی نے اپنے پیغمبروں کی وساتط سے واضع طور پر کر دیا ہے۔ یہاں کسی شورٹ کٹ کی گنجائش کی تلاش وقت کا ضیاع ہی ہو سکتا ہے ۔ مگر کچھ یار لوگوں نے اس شورٹ کٹ کی تلاش کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا ہے۔آپکو ضرور ایسی ای میلوں سے واسطہ پڑا ہو گاجسے اگر آپ دس منٹ کے اندر اندر اپنے بیس عدد جاننے والوں کو فاورڈ کر دیں تو دنیا اور آخرت آپ کی ہے ورنہ دنیا میں بھی آپ پر عذاب اور آخرت میں بھی۔ کسی زمانے میں اس قسم کے خطوط عام ڈاک سے بھیجے جاتے تھے اور ساری دنیا میں گردش کر رہے تھے۔ان کو چین لیٹر کا نام دیا گیا تھا۔ان کا آغاز کب ہوا اس کا تعین کرنا تو مشکل ہے مگر اکثر خطوط کے مواد س کی بنیاد پر سو دو سو سال آرام سے کہے جا سکتے ہیں۔

جب کاپی مشین ایجاد نہیں ہوئی تھی تو آپ کو ایسے خط کا مضمون نقل کرنا پڑتا تھا جو محنت طلب کام تھا۔ کاپی مشین نے جنت تک جانے کے کام کو اتنا آسان کیا کہ آپ کو خط کا متن بار بار نقل کرنے کی ضرورت باقی نہ رہی بلکہ آرام سے اسکی فوٹو کاپیاں کروا کر آگے پوسٹ کرنا ممکن ہوگیا۔ آجکل انٹرنیٹ نے کام مزید آسان کر دیا ہے۔آپ کو پیغام پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں بس فارورڈ کا بٹن

 
 

آنکھیں میری باقی انکا

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں، مجھے کوئی شام ادھار دو

زندگی میں صرف دو ھی المیہ ھوتے ھیں آرزو دل کو پا لینا یا نہ پانا۔

انسان شاید اسی امید پر زندہ ہے کہ ہر رات کے بعد سورج طلوع ھوتا ھے، مگر کتنی دفعہ ایسا ھوا ھے کہ صبح ھوتی ھے مگر سورج کالے بادلوں میں چھپا رہ جاتا ھے۔

 

Under this heading I will publish extracts of selected prose and poetry of my choice as well as your choice, if you will send them as Wordpad file in Unicode fonts.

قدرت اپنے دام بچھاتی ہے۔اسلئے تو اس نے پھولوں میں خوشبو، ہرن میں کستوری اور عورتوں میں رعنائی رکھی ہےاور جب قدرت کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو پھول مرجھا جاتے ہیں، ہرن شکار ہو جاتے ہیں، عورتیں بوڑھی ہو جاتی ہیں اور تمہارے سینے ٹوٹ جاتے ہیں۔

مشنی دور میں انسان روپیہ چاہتا ہے۔ سرمایہ داری نے اس کی زندگی کو تلخ، اسکے دل کو کمینہ، اسکی روح کو غلیظ بنا دیا ہے۔ لیکن خوبصورتی کی حس ابھی مٹی نہیں، وہ انسان کی کائنات کے کسی گوشے میں کسی زخمی رگ کیطرح ابھی تک ٹڑپ رہی ہے۔ (بالکونی۔کرشن جندر)

 

تہذیب، کیچر، شرافت، عزت نفس ------- یہ الفاظ کہان سے آتے ہیں۔ کیا یہ لفط روپے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ یا کہ انکی الگ بھی کوئی ہستی ہے، کوئی الگ کردار بھی ہے۔ کہیں پر کوئی ایسی ٹکسال ہے جہاں جو جسطرح کھرے اور کھوٹے سکوں اور نقلی اور اصلی نوٹوں کا فرق بتاتی ہے، اسطرح سے وہ اصلی اور نقلی تہذیب، کھرے اور کھوٹے کلچر، سچی اور جھوٹی شرافت اور عزت کا بھید بھید بھی بتا سکے؟ یہ سب لفظ اور شکلیں، قدریں اور قیمتیں روپے کے ساتھ ساتھ لگی لگی کیوں ناچتی ہیں؟ جیسے ان لفظوں سے معنی نکل گئے ہوں اور اب یہ سب بے مغز نوجوانوں کی طرح بے معنی ٹوسٹ ناچ رہے ہوں--- دنیا کو یہ لفظ واپس کب ملیں گے؟ اور میں جو ایک ادیب ہوں جسے لفظ بہت پسند ہیں، اپنی بند آنکھوں کے اندھیرے میں ہاتھ پھیلا پھیلا کر ان لفظوں کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر یہ اڑتے، مڑتے، تیڑھے ، میڑھے سائے کیطرح بھاگتے میرے ہاتھوں کی گرفت سے باہر نکل کر کہیں چلے جاتے ہیں اور میری مٹھی میں صرف اندھیرا رہ جاتا ہے 

 
 

بلھے شاہ کہندے نیں
گل سمجھ لئی تے رولا کیہ
ایہ رام ، رحیم تے مولا کیہ؟

تجربہ وہ انمول عطیہ ہے جو ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ کسی غلطی کو دہرانے پر اسے بآسانی پہچان لیں  
F. P. Jones

 
 

غلامی کی نشانی؟؟

اردو کے شیدائیوں میں جو حضرات اپنی ویب سائٹ اور انٹرنیٹ پر اردو کی ترقی اور تشہیر میں کوشاں ہیں ان میں جناب عمیر صاحب بھی پیش پیش ہیں۔ وہ اپنے ایک اردو بلوگ میں لکھتے ہیں کہ ہم ہندوستانی اور پاکستانیوں کی چائے پینے کی عادت انگریزوں کی غلامی کی ایک نشانی ہے۔اگر غور کیاجائے تو حقیقت یہ ہے کہ خود یہ عادت انگریزوں نے دوسری قوموں سے لی ہے ۔ انگلینڈ میں چائے کہاں پیدا ہوتی ہے کہ یہ ان کی روایت ہوتی۔ ہاں دوسری بہت سی دریافتوں کی طرح انہوں نے اس پر بھی اپنا لیبل لگا کر دنیا کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم ہندوستانی پاکستانیوں کے لئے دنیا میں اور کوئی قوم ہی نہیں بستی کہ ہر موڈرن ثرینڈ کو انگریزوں سے منصوب کر دیتے ہیں۔یوں اپنے بھولے پن اور لا علمی میں ہم سمجھتے ہیں کہ پورا یورپ انگریزی بولتا ہے، انگریزی لباس پہنتا ہے، انگلش کھانے کھاتا ہے، انگلش فلمیں دیکھتا ہے اورانگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتا ہے، انگریزی رسم الخط میں لکھتا ہے۔جاننے والے جانتے ہیں کہ یورپ کی چھوٹی سے چھوٹی قوم بھی اپنی جداگانا حیثیت کو چھوڑنے کو تیار نہیں، انکی روایات، انکی زبانیں، رسم الخط، سرکاری اور تعلیمی زبان، غرض کہ ہر چیز جداگانہ ہے۔ وہ انگریزوں کی طرح چائے کی بجائے کافی پیتے ہیں اور وہ بھی نیس کافی نہیں بلکہ ٹرکش کافی۔ ویسے بھی کھانے پینے میں غیر ملکی کھانے کھانے میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی یہ غلامی کی نشانی ہے۔ ہماری جو عادتیں اور طور طریقے ہمیں انگریزوں کا اب تک غلام بنائے ہوئے ہیں وہ ہے ہماری سرکاری زبان، ہمارا میڈیم آف ایجوکیشن (ذریعہ تعلیم)، اپنی قومی اور مادری زبانوں سے غفلت،اور انگریزی کو آپس کی گفت وشنید اور خط و کتابت کے لئے استعمال کرنے کو تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی سمجھنااور اس پر فخر کرنا ہے۔ جب تک ہم اس روش کو، اس سوچ کو نہیں بدلیں گے ہمیں اپنے آپ کو زندہ اور آزاد قوم کہنے کا کوئی حق نہیں۔

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر موضوع پر علمی سطح پر کتابیں اور مضامین لکھے جائیں، بہترین کتابوں کا چاہے وہ کسی بھی زبان میں ہو اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ پچھلے پچاس سالوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر اس کام کو ارباب اختیار پر چھوڑا تو ہزار سال تک اس غلامی کا طوق گلے سے نہ اترے گا۔ یہ کام اہل دل کو ہی کرنا ہے اور رضاکارانہ کرنا ہے۔ اگر ہم ہند و پاک کے غیر ملکی زبانوں میں دسترس رکھنے والے، برصغیر یا یورپ اور دنیا میں بکھرے ہوئے اعلی تعلیم یافتہ اور خصوصا مترجم حضرات اپنی اپنی فیلڈ کی کم سے کم ایک ایک کتاب (یا پیپر) اردو میں لکھیں اور شائع کریں تو یہ خلا کسی حد تک پورا ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں دنیا کی بے شمار قوموں کی مثالیں ہماری رہنمائی کے لئے کافی ہیں۔

دوسری قوموں پر اپنے مشاہدے کے بارے میں اور اشاعت کے مسئلے پراگلی دفعہ ۔


To read this and similar sites in Urdu you need to have Unicode Urdu fonts such as Urdu Naskh Asiatype or Tahoma. If you don't have either of them then you can download Urdu Font File "asunaskh.ttf" from the following links:

 

 

Mr. Umair's Urdu's UrduBlog is the First UrduBlog, which he is publishing besides his other wonderful and informative blogs and pages in Englilsh. 


 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

This ezine is sent to you for testing. Your comments are most welcome. 

If you don't want to receive it any more, you need not to do any thing.  You will not get this again unless you express your interest to receive it regularly.

      Urdu Naskh Asiatype    
 
 
 

Your opinions, comments and suggestions about this site are most welcome and highly 
appreciated. Tell us what you think about the web site, its design and  content or 
anything else that comes to mind.  We welcome all of your comments and suggestions.

Name:
Email:
Comment:
 

1