تمغہ حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے پہلے ہی منیر اپنی شناخت آپ کرواچکے تھے جبکہ منیر نیازی کے روبرو دوسرے لکھنے والے اپنی شناخت کروانے والی ایک لاینحل کیفیت میں مبتلا رہتے ، مجھے ہمیشہ ایک تجسس رہا کہ گزرتی پرچھائیوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے انہیں خوفزدہ کرنا کیسے سیکھا کیونکہ وہ قبول چکے تھے کہ ’’منیر پہلے بلی تھا مگر جنگل کے خوف نے اُسے شیر بنادیا‘‘ شاید میں بھی اس بھیڑ بھاڑ والے جنگل میں شیر بننا چاہتی تھی ، غالباََاسی لئے منیر کی کتابی دنیا میںکسی طاقت نے مجھے کھینچا تھا،وہاں تتلیاں
پر پھیلائے باتیں بھی کرتی ہیں، ہوائیں درد کی سیٹیاں بجاتی ہیں،سویرا ایسے اترتا ہے کہ دل لہو رنگ ہوجائے،جہانِ ادب میں منیر نیازی کی کوئی مثال نہیں مل سکتی،ان کے نظریات آگہی کی منزلوں تک لے جاتے ہیں۔
’’صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا‘‘
وہ خوبصورتی اور بدصورتی کو ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھتے تھے، ان کے پاس من کے اندر چھپی دلکش مورت اور من کے پیچھے چھپے عفریت کو پل میں تلاش کرلینے کا ہنر تھا۔
’’جن وقتوں میں بیلیں درختوں پر چڑھتی ہیں
جن وقتوں میں روحیں نئے علم پڑھتی ہیں
سارے جہاں کے اوپر اک رنگ چمکتا ہے
جس کے اثر سے ظاہر ہوتا ہے روپ آنکھ کا‘‘
منیر نیازی نے تیس کتابوں میں اردو کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے کئی گیت، تنقیدی کالم،پسماندگان میں چھوڑے ہیں ،منیر نیازی نے جو کچھ لکھا وہ ایسا کہ جسے آئندہ نسلیں کھوجنے میں نجانے کن کن گپھاؤں میں ہر بار جانکلیں ،سینے میں خلا پیدا کرنے والی بلائیں نکل آئیں ،نت نئے شہر، عجیب عجیب طلسم ہیں ان کتابوں میں،منیر نیازی کی ان ماورائی کتابوں میں شاید وہ ماورائی ماحول ہے جہاں سے وہ آئے تھے اس ماحول کا مزاج غالبا جادو ٹونے کی رسوم میں ڈھلا تھا، قبروں کو پوجنا،جنتر منتر کرنا،تعویذ گنڈوں سے کسی کو رام کرنا یا دشمنوں کوموت کے گھاٹ اتاردینا ہماری قدیم ثقافت کا حصہ ہے،شاہ عبد الطیف بھٹائی ہوں یا سچل سرمست، بابا بلھے شاہ ہوں یا خوشحال خان خٹک،سرحد کے علاوہ سندھ و پنجاب کی تہذیب بھی انہی رسوم کی پیروی کرتی نظر آتی ہے،ہماری لوک داستانوں کے عمر ماروی، ہیر رانجھے، سوہنی مہیوال شکاریوں کے ہاتھوں میں رہے، اسی لئے کالی رات کی خاموشی میں پگڈنڈیوں پر پیڑوں کے سائے چڑیلوں جیسی سازشیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دن چڑھتے ہی یہ عناصر بانسری یا الغوزے بجاتے ہوئے باریش آدمی،کپاس چنتی ہوئی دوشیزائیں، بچے کو جھولا جھلاتی لوریاں سناتی خوبصورت مینڈھیوں والی مائیں بن جاتے ہیں،ہوا چاہے کتنی ہی خاک اڑائے،سوچوں کی پت جھڑ بہاروں کی اطلاع لے کر آتی رہے گی۔
’’سبز دھرتی کی ہے یا ہے نیلے انبر کی ہوا
اس گھڑی آئی کہاں سے جلتے عنبر کی ہوا
گھر کے در کو بند رکھو دور تک میدان میں
خاک اڑاتی پھر رہی ہے پھر ستمبر کی ہوا‘‘
[پنجابی نظم کا ترجمہ]
ذی شعور اور منصف مزاجوںکے وجود کو ہم کتابوں میں ڈھونڈیں گے ،وہ ملیں گے نہ ان کی کتابوں میں اڑتے پرندے ہمارے ہاتھ آئیں گے لیکن اس جدائی کی مہک بارش سے بھیگنے والی سوندھی مٹی کی طرح آنسو پلائے گی،مگر کیا پتہ کسی حادثے کا محرک ایسا بھی ہو جب یہ ڈھلتی شامیں سنبھل جائیں، افہام و تفہیم ہمہ گیر محبت بن جائے،فکرو احسا س کے جذبے جو مرجھاکر مرنے والے ہیں وہ پھر تروتازہ ہوجائیں،اس کے لئے ہمیں وہ جنگ کرنی پڑے گی جو منیر نیازی کرتے رہے،لال پیلی آنکھوں والی بدصورتیوں سے ڈرنے کے بجائے چیخ کر انہیں ڈرانا پڑے گا،کچھ دیر ٹہر کر بارش میں بھیگنا بھی پڑے گا تاکہ ہم سرسبز و شاداب ہوسکیں جہاں ایک دوسرے کے مقام پر قبضہ جمانے کی سوچ سے نکل کر ہم اجتماعی تسخیر کے خیال میں ڈھل جائیں گے۔۔۔
’’کہ جیسے بھٹکے ہوئے مسافر
درخت بن کر کھڑے ہوئے ہیں
اک اور منظر میں جا بسیں گے
کچھ اس طرح سے رکے ہوئے ہیں
ذرا سی مہلت جو مل گئی ہے
خرابیاں ان میں آ گئی ہیں
جو فاصلے ان کے بیچ میں ہیں
اداسیاں ان میں اُگ رہی ہیں
کوئی فسانہ سا ہے یہ منظر
خراب و خوبِ جہانِ ثابت
فنا بقا سارے ساتھ مل کر
جسے بکھرنے سے روکتے ہیں
درخت بارش میں بھیگتے ہیں‘‘
منیر نیازی کی جدوجہد کی راہیں بڑی مختلف تھیں، ان کی فکری سطح اس قدر قوی تھی کہ منیر کے سپنوں میں تیرتے ہوئے کمزور لوگ شل ہوکر ڈوب جاتے تھے، ان کی فکر کو مارے خوف کے بھوتوں کی شاعری کہہ دیتے لیکن ان کے جانے کے بعد پچھل پیریاں اپنی سرخ زبانوں سے جو وہم ٹپکایا کرتی تھیں وہ حقیقت بن گیا ہے، منیر ان کی تنقید پر کان دھرے بنا چل دئے،ڈر لگتا ہے اس دستک غم خوار سے،اس خاموش راحت سے جہاں مور تک نہیں گاتا، جہاں گئے وقت کی گڑگڑاہٹ میں ان کی یاد چنگاریاں اڑارہی ہے، طرحدار راوایات،رنگیلے الفاظ،شرمیلے جذبے،آنکھیں موند کر ان مناظر میں کھوجانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
’’موسم ہے رنگیلا، گیلا اور ہوادار
گلشن ہے بھڑکیلا، نیلا اور خوشبودار
عورت ہے شرمیلی، پیلی اور طرحدار
اس کی آنکھیں ہیں چمکیلی، گیلی اور مزیدار‘‘
یہ بہت سخت مقام ہے، چارسو خزاں رسیدہ ہوائیں شور کر رہی ہیں،بقول انہیں کے کہ اس طرح کی جنت میں سانپ تک نہیں آتا، ان کے الفاظ کی بے انت کہانی کا انت ہوگیا ہے، سرخ گلاب سیاہ رات کی طرح کالے ہوچکے ہیں، میں وہی موڑ ڈھونڈرہی ہوں جہاں سے میں اس شہر کے اندر داخل ہوگئی تھی، لیکن جادوگر کتاب کے آخری ورق پر حرفِ آخر لکھ گیا ، واپسی کا دروازہ نظر سے اوجھل ہے،کہانی آخر کہانی تھی حقیقت نہیں!
’’بس اک نظر میں ہزار باتیں
پھر اس سے آگے حجاب اتنے
مہک اٹھے رنگ سرخ جیسے
کھلے چمن میں گلاب اتنے
منیر آئے کہاں سے دل میں
نئے نئے اضطراب اتنے‘‘
شاید وہاں کچھ اور سپنے ان کے منتظر تھے جنھیں وہ حقیقت کا روپ دینے کے لئے راستہ بتانے والے تاروں کے پیچھے گئے ہیں، وہاں شاید خوشبو کے جزیرے ہوں، سات سمندروں سے بھی بڑا کوئی اور سمندر ہو جس میں وہ شامل ہونا چاہتے ہوں،اقبال، راشد،فیض اور میرا جی کے بعد اردو شاعری کا پانچواں دریا کہلا نے والی شخصیت نے کہا کہ۔۔۔
’’ بس اتنا ہوش ہے مجھ کو کہ اجنبی ہیں سب
رکا ہوا ہوں سفر میں کسی دیار میں ہوں‘‘
شاید وہاں کی آب و ہوا ایسی ہو کہ جس سے ساری سڑکیں پھولوں سے بھر جاتی ہوں یا خان پور کے اس چھوٹے سے گاؤں کے گھروں جیسی ہوجہاں دیئے کم تھے اور روشنی کی ضرورت سپنوں کی حد سے آگے جانے پر مجبور کررہی تھی !
’’چھوٹا سا اک گاؤں تھا جس میں
دیئے تھے کم اور بہت اندھیرا
بہت شجر تھے تھوڑے گھر تھے
جن کو تھا دوری نے گھیرا
اتنی بڑی تنہائی تھی جس میں
جاگتا رہتا تھا دل میرا
بہت قدیم فراق تھا جس میں
ایک مقرر حد سے آگے
سوچ نہ سکتا تھا دل میرا
ایسی صورت میں پھر دل کو
دھیان آتا کس خواب میں تیرا
راز جو حد سے باہر میں تھا
اپنا آپ دکھاتا کیسے
سپنے کی بھی حد تھی آخر
سپنا آگے جاتا کیسے‘‘
فن کا احاطہ کرنا میرے بس کی بات نہیں، یہ تو وہ زرخیز زمیں ہے کہ بنجر ہونے کے باوجود منیر نیازی جیسی شخصیات کو پروان چڑھا کر مٹی کے ٹیلے پر فتح کا جھنڈا گاڑ سکتی ہے، میری زندگی میں تو صرف کتابیں ہی کتابیں ہیں جن میں تاکا جھانکی میرا دلپسند مشغلہ ہے،جن کی کہانیاں گھول کر پیتے پیتے شاید کبھی کوئی تریاقی لفظ میری روح میں بھی گھل جائے،آسمان پر سرخی پھیلی ہوئی ہے،چاند کے لحد میں اترجانے کے باوجود میں اس کی کتابوں کو سینے سے لگائے کہانیوں کے طلسم میں کھوئی رہوں گی مجھے تو بس اتنا کہنا ہے کہ ''پھر،جادوگر غائب ہوگیا‘‘۔۔۔!!!
’’یہاں سے جا چکا ہے جو اُسے کم یاد کرنا ہے
کہ بے آباد گھر کو پھر مجھے آباد کرنا ہے‘‘
فرزانہ خان نیناں۔نوٹنگھم