پھر، جادوگر غائب ہوگیا!
تحریر۔فرزانہ نیناں
[یہ مضمون اخبار 'نوائے وقت لندن' اور کئی ادبی جریدوں میں شائع ہوچکا ہے]
وہ جادوگر تھاجو شاعری کی طلسماتی دنیا میں، اپنے ماحول، اپنے الفاظ کے ذریعے سب کو جکڑ لیتا ،اندر چھپے خوف کوتسخیر کر لیتا،اس کے الفاظ یوں منکشف ہوتے کہ جیسے اس کائنات کے پوشیدہ راز کھل جائیں،اس کی کشش یوں کھیل کھیلتی جیسے کوئی تجربہ کار جوہری اپنے پاس آنے والے گاہک کو شیشے کی الماریوں میں جگمگ کرتے زیورات کو چھونے کا موقعہ فراہم کرتا ہے ،چاہے وہ پنجابی ہو یا اردو بات وہ کرتا جو بڑی آسانی سے سب کو اندر ہی اندرہچکولے دے دیتی۔
’’کج اونج وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج مینوں مرن دا شوق وی سی‘‘
رستہ دسَن والے تارے،سفر دی رات، چار چپ چیزاں،تین پنجابی کے مجموعے اس سے زیادہ سہل اور کیا ہوتے کہ اردو پڑھنے والے یوں پڑھتے۔۔۔
’’کچھ یوں بھی راہیں مشکل تھیں
کچھ گلے میں غم کا طوق بھی تھا
کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے
کچھ مرنے کا مجھے شوق بھی تھا‘‘
کبھی کوئی ہیرا لبھاتا تو کبھی کوئی نگینہ للچاتا ایسی چالیں کہ وہ کسی اور جوہری کے پاس جانے کے بجائے یہیں جواریوں کی طرح لٹ جائے،جنگلوں کی دھنک الفاظ کی مالا پرونے چلی آتی۔
’’اک ہفت رنگ ہار گرا تھا مرے قریب
اک اجنبی سے شہر میں آیا ہوا تھا میں‘‘
طلسماتی فضاؤں کے تصورات میں کھوئے ہوئے شاعرکو پڑھنے والے لوگ ،سہمے ہوئے، گھبرائے ہوئے لیکن خواہشوں کی کھوج میں اس دھند کے پار والے جنگل میں داخل ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں جہاں انھیں رنگ برنگے لفظ،پراسرار مناظر کی تصویروں میں سموتے لفظ، اپنی مہک میں جذب کرنے والے لفظ، چیل کی طرح کھینچ کر لے جاتے ہیں اور پھر کبھی نہیں چھوڑتے۔
’’خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت
شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا‘‘
اس کے لفظوں اور نظموں کا اپنا موسم تھا، اس کی اپنی کہانیاں تھیں،بے انت کہانیاں، اس کا جادو سب کو ایسے شہر نامعلوم میں لے جاتا تھا جہاں سپنے باتیں کرتے ، پیڑ، پودے، درخت، پھل ،پھول اپنے قصے سناتے اور یوں لگتا کہ ان کا رنگ مہندی لگے ہاتھ سے اتر کر پورے بدن پر چڑھ گیا ہے، آپ چاہیں نہ چاہیں ان الفاظ کی ہیبت سجدہ ریز ہونے پر مجبور کردیتی ہے، کبھی کچھ مل جاتا ہے تو کچھ کھو بھی جاتا ہے، ،تنہائی دروازہ کھول کر بے دھڑک اندر چلی آتی ہے اور یاد، ماضی کے دانے چگنے لگتی ہے،ذہن و دل کا سنگم شاذ ونادر ہی ہوتا ہے، ہم جو اپنی آگہی حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے ،ہم اپنے وجود کی اس ضرورت کو نظر انداز کردیتے ہیں، ہم کبھی اپنے آپ سے نہیں پوچھتے کہ کون ہیں؟کہاں سے آئے ہیں؟ کہاں جارہے ہیں؟ہم جو اپنے شعور سے اپنے ہی تعلق کو نہیں جانتے، وہ تعلق جس کا ادراک منیر نیازی کو عام لوگوں سے ممیز کرتا تھا وہ جانتے تھے کہ ان کی تخلیق میں کیا ہے اور وہ کیا تخلیق کرسکتے ہیں انہوں نے اوہام کی دنیا میں جاکر ان کو شکار کرلیا تھا،انہوں نے غیر انسانی چیزوں کے ساتھ ہمکلام ہوکر انہیں انسانی شعور تک پہنچایا،خیال و شعور کو مربوط کرنے میں منیر نیازی اپنے فن کی انتہا کرتے رہے،انہوں نے تخلیقی دنیا کے ریاکار وں کو قائل کرنے کے بجائے اپنے در تک صرف ایک راستہ بنادیا کہ جس نے آنا ہے خود ہی چلا آئے،منیر نیازی کے دل نے جنہیں نہیں مانا وہ ان کے ہمسفر کیسے بن جاتے!
’’اس خلائے شہر میں صورت نما ہوتا کوئی
اس نگر کے کاخ و کو میں بت کدہ ہوتا کوئی
یوں نہ مرکز کے لئے بے چین پھرتا میں کبھی
پیکرِ سنگیں سہی اپنا خدا ہوتا کوئی
میں منیر آزردگی میں اپنی یکتائی سے ہوں
ایسے تنہا وقت میں ہمدم مرا ہوتا کوئی‘‘
اس شاعری کو پڑھتے ہوئے منیر نیازی کی آنکھوں سے دیکھنا پڑتا ہے،میں بہت چھوٹی تھی جب ایک کتاب کے موڑ کو مڑتے ہوئے بھولے سے ان کی شاعری میں داخل ہوگئی،وہاں۔۔۔
’’دو خوبصورت عورتیں غرا رہی ہیں
بجلیوں کی چمک میں
وقفے وقفے سے بوچھاڑ کی طرح آتی ہوا میں
دو خوبصورت عورتیں
دل کی وحشت میں غرارہی ہیں
یہ اشانت عورتیں مجھے اشانت کرتی ہیں
یہ نہیں کہ موسم کا مجھ پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا
پر مرے دل میں فکر اتنا ہے
کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلتا کہ میرے آس پاس کیا ہورہا ہے
کتنا وقت گزر گیا۔۔۔اور کیسے گزر گیا
بس کبھی کبھی موسم کی وجہ سے
کبھی کبھی عورتوں کی وجہ سے اشانت سا ہوجاتا ہوں‘‘
منیر نیازی کا ایک ہی عکس ایسا تھا کہ مجھے اس میں اپنے بہت سے عکس مل گئے گویا پہلی بات ہی آخری تھی،سیاہ شب کا سمندر،بیوفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول،سفید دن کی ہوا،جنگل میں دھنک،چھ رنگین دروازے،دشمنوں کے درمیان شام،ماہِ منیر آغاززمستاں، ساعتِ سیار، کلیات منیر،میں گھنٹوں بیٹھی اس شاعری کے آگے کھل جا سم سم پڑھاکرتی، میری آنکھوں میں حیرانی اتر آتی،ایک خوبصورت انسان خوبصورت عورتوں کی جانب اپنے الفاظ میں یوں لپکتا ہے کہ جیسے کسی پچھل پیری کے حصار کو توڑنا ہو،رفتہ رفتہ مجھے سمجھ آنے لگی کہ منیر نیازی کی یہ خوبصورت جادوگرنیاں ہمارے ارد گرد پھیلی اچھائیاں برائیاں ہیں جن کی پرچھائیں تک وہ پہچان لیتے ہیں،کسی نے یہ قصہ سنایا تھا کہ’’ جب امرتسر ٹیلیویژن کی نشریات شروع ہوئیں تو لوگ بڑے بڑے انٹینا لگا کر وہ دیکھا کرتے تھے منیر نیازی فیروزپور روڈ والے گھر میں رہتے تھے ،ایک شام دوستوں کو بلایا ان کی خاطر تواضع کے لئے کرسیاں صحن میں لاکر رکھیں ایک میز پر ٹیلیویژن بھی لاکر رکھ دیا اور چائے پانی سے مدارت کرنے لگے دوستوں نے سبب پوچھا تو بولے کہ ’’آج امرتسر ٹی وی سے امرتا پریتم ایک پروگرام پیش کرے گی،کتنی خوبصورت عورت ہے‘‘
پروگرام کا موضوع تھا ’پاکستان کے پنجابی شاعر‘ آغاز ہوتے ہی منیر پوری طرح اس جانب متوجہ ہوگئے،امرتا نے ایک غیر معروف شاعر کے کلام سے ابتدا کی تو بولے کہ یہاں بھی مشاعرے والے آداب چل رہے ہیں میرا تذکرہ غالباََ آخر میں آئے گا لیکن آخر میں امرتا ان کا ذکر کئے بغیر رب راکھا کہہ گئیں منیر صاحب کی نظریں جو ایک پل کو سکرین سے نہیں ہٹیں تھیں حیرانی و بے یقینی سے پھیلی ہوئی تھیں ، وہ بولے ’’کتنی بد صورت عورت ہے یہ‘‘ ہمارے یہاں فن کی دنیا نے اپنے امتیازات و طبقات قائم کیئے ہوئے ہیں حالانکہ اس سطح کو چھونے والے ادیب دنیا بھر کے ادب کی تشکیل کرتے ہیں ،
منیر نیازی کی باتیں کبوتروں کی طرح ذہن کے گنبد میں گونجتی رہیں گی ۔
’’بھروسہ ہی نہیں مجھ کو کسی پر
کسی کو رازداں کیسے کروں میں
بدلنا چاہتا ہوں اس زمیں کو
یہ کارِ آسماں کیسے کروں میں‘‘
ان کے زریں جملے رنگ برنگی پنییوں پر پڑنے والی کرنوں کو منعکس کرتے رہیں گے، کتابیں جو مقدس ہوتی ہیں، کتابیں جنھیں چوم کر آنکھوں اور سینے سے لگایا جاتا ہے،انہیں کتابوں کو لکھنے والے جو محنت اور دیانت کے ساتھ ان سچائیوں کو اجاگر کرتے ہیںان کو نظر انداز کرنے میں ہم اپنا ثانی نہیں رکھتے ،افسوس کہ ہم نے اپنے ادیبوں کے لئے بھی قانون وضع کردیئے ہیں چاہے وہ اپنی علمی تخلیقات کے خزانے کا ڈھیر لگادیں لیکن ہم فقط سانپ کی طرح کنڈلی مارے اپنے بخل کی انتہا کرنے میں مصروف رہتے ہیں،اس بات سے بے خبر کہ دیر کا انجام کیا ہوتا ہے!
’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
بدلتے موسموں کی سیرمیں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جاکے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں‘‘
حقیقت بہت سخت تھی اس میں طلب تھی، اس میں پیاس تھی، اس میں چاند تھا جو روٹی بن جاتا تھا، دل تھا جو عشق و اداسی کے موسم سے نکل کر زندگی کا اشتہار بن جاتا ،بقول منیر نیازی کہ’’ مجھے ایک شاعرہ کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لئے وکیل بھی کرنا پڑا کیونکہ اس نے بلا اجازت میرا کلام اپنی کتاب میں شائع کروادیا‘‘ ان کو ناشران سے رائلٹی کا بھی شکوہ رہتا تھا، منیر صاحب کے ہم عصر انہیں سرپھرا ،خودپسند سمجھتے رہے حالانکہ وہ جان چکے تھے کہ وہ ان سے ڈرے ہوئے ہیں لہذا اس لطف کو اٹھانے میں منیر نیازی کو کوئی عار نہیں تھی لیکن انہیں محفلوں کی صدارت کرنا،تصاویرکھنچوانے کے لئے دھکے کھانا اور میٹنگیں بلوا کر گروپ بازیاں کرنے سے سخت نفرت تھی،ان کا کہنا تھا کہ’’ محض میڈل دے کر اور فنکار کو قوم کا سرمایہ قرار دے کر حکومت اس سرمائے کو خرد برد کردیتی ہے ‘‘ اسی لئے ان کی قوت جھنجھلاہٹ میں بدل جایا کرتی تھی۔
’’میری ہستی میں بھی آئے ایک دن آرام کا
ایک دھندلی صبح کا اور ایک دھندلی شام کا‘‘
‘‘